پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی کو مدینہ میں ہوئی- آخر وقت میں آپ کی اہلیہ عائشہ آپ کے ساتھ تھیں- حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آخر وقت میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللہم الرفیق الأعلى (البخاری، رقم الحدیث : 6348) یعنی اے اللہ، تیری رفاقت چاہیے-
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: جعلتُ أسمعہ یقول: فی الرفیق الأعلى،ثم قرأ:’مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا‘ (4:69) یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ، رفیق اعلی کے ساتھ- پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’اُن لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح، اور کیسی اچھی ہے اُن کی رفاقت‘‘- (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، 7/743 )
اِس واقعے کا تعلق محدود طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تمام اہلِ ایمان سے ہے- ایک مومن جب سچے ایمان کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو اپنے آخری زمانے میں اس کا احساس یہ ہوجاتا ہے کہ اللہ نے مجھے اکرم الخلق (17:70) کی حیثیت سے پیدا کیا، لیکن احسن المقام (25:76) کا تجربہ مجھے نہ ہوسکا- دوسرے لفظوں میں یہ کہ میں پورے معنوں میں ایک طالب انسان تھا، لیکن میرا مطلوب اللہ نے آخرت میں جنت کی صورت میں رکھ دیا تھا، اس لیے میں اس کو نہ پاسکا- دنیا میں ایک سچے مومن کی تصویر وہی ہوتی ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الدنیا سجن المؤمن ( صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2956) یعنی دنیا مومن کا قید خانہ ہے-
جس صاحبِ ایمان کی نفسیات یہ ہو، وہ اپنے آخری زمانے میں، معنوی طورپر، اُسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے جس کا اظہار مذکورہ روایت میں پیغمبر کے حوالے سے کیاگیاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔