← Al-Risala May 2013Al-Risala May 2013
فطرت کا ایک اصول
Urdu · 3 min read
علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے- انسانی گروہ کے لیے بھی کبھی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے عمل کے مقام کو بدلا جائے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طورپر اپنا کام انجام دے سکے- اسلام میں ہجرت کا مقصد یہی ہے- اسلام کےمطابق، ہجرت سادہ طورپر صرف ترکِ مقام کے معنی میں نہیں، بلکہ وہ عمل کی تبدیلی کے معنی میں ہوتی ہے-
اِس ہجرت کی دو صورتیں ہیں — ایک ہے عمل کے مقام (place of work) کو بدلنا- اور دوسرا وہ ہے جس کو رول کی تبدیلی (change of role) کہاجائے گا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت پہلی قسم کی مثال ہے، اور حدیبیہ دوسری قسم کی مثال، جس نے اہلِ ایمان کے عسکری رول کو دعوتی رول میں تبدیل کردیا-
اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں کو یہ موقع ملا کہ انھوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں- اِس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاسکتا ہے- یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا- اٹھارھویں صدی کے آخر میں اس کا خاتمہ ہوگیا- چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں اب بھی باقی تھیں، لیکن مسلم ایمپائر باقی نہ رہا-
یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی کی سازش یا دشمنی کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ فطرت کے ایک اصول کے تحت پیش آیا اور وہ ٹرانسپلانٹیشن کا اصول تھا- اِس کے تحت ایسے حالا ت پیداہوئے جس کا تقاضا تھا کہ مسلمان اپنے رول کو بدلیں- اٹھارھویں صدی تک انھوں نے سیاسی رول ادا کیا تھا، اب نئے حالات میں اُن کو دعوتی رول ادا کرنا تھا-
اسلام کے ظہور کے بعد ضرورت تھی کہ خدا کا دین کامل طورپر محفوظ اور مدوّن ہوجائے- اسلامی علوم کا ایک مستند کتب خانہ قائم ہوجائے- اٹھارھویں صدی میں پرنٹنگ پریس وجود میں آیا ، اُس نے دین کی حفاظت وتدوین کے کام کو اتنا زیادہ مستحکم کردیا کہ اب اُس میں کسی قسم کی تبدیلی یا تحریف عملاً ناممکن ہوگئی-
انیسویں صدی کا آغاز تاریخ انسانی میں ایک نئے دو رکا آغاز تھا- اِس دور میں مذہبی جبر کی جگہ مذہبی آزادی آئی- کٹرپن کی جگہ کھلاپن (openness) ، تعصب کے بغیر دوسرے مذاہب کا مطالعہ اور جدید مواصلات، وغیرہ- اِن تبدیلیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تاریخ میں ایک نیا دور آگیا- اِس دور کو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دعوت کا دور(age of dawah) کہاجاسکتا ہے- اِسی کے ساتھ وہ چیز وجود میں آئی جس کو عالمی سیاحت (world tourism)کہا جاتا ہے- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مختلف قوموں کے لوگ بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں کا سفر کرنے لگے- مثلاً 2011 میں مختلف ملکوں کے جو سیاح شرقِ اوسط (Middle East) میں آئے، اُن کی تعداد 55 ملین سے زیادہ تھی-
یہ حالات اشارہ کررہے تھے کہ اب مسلمانوں کا رول بدل گیا- اٹھارھویںصدی تک اگر اُن سے پولٹکل رول مطلوب تھا تو اب اُن سے دعوتی رول مطلوب ہے- اب انھیں چاہیے کہ وہ دوسری قوموں سے لڑائی کو مکمل طورپر ختم کردیں- وہ اپنے اور دوسری قوموں کی درمیان وہ پرامن اورمعتدل حالات قائم کریں، جب کہ موافق ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام عالمی سطح پر ہونے لگے-
اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے رول کی اِس تبدیلی کو جانیں اور اپنی کوششوں کو پوری طرح دعوت کے میدان میں لگا دیں- ورنہ اِس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول کے مطابق، اُن کی مثال اُس حیوان جیسی ہوگی جس کے مالک نے اُس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا، لیکن وہ اِس سے بے خبر رہا کہ اِس منتقلی کے ذریعے اس کا مالک اُس سے کیا چاہتا ہے: والمنافق مثلہ کمثل الحمار، لا یدری فیم ربط أہلہ ولا فیم أرسلوہ (تفسیر ابن کثیر3/450 ) یعنی منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس لیے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it