Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2011
Al-Risala May 2011

زندگی کا ایک اصول

Urdu · 2 min read

مولانا مرغوب الرحمن قاسمی (وفات: 2010 ) دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔ اپنی زندگی کے آخری تیس سال تک وہ اِس عہدے پر فائز رہے۔ اپنے کام کی نسبت سے، اُن کے تعلقات بہت سے لوگوں کے ساتھ قائم تھے۔ اِن تعلقات کے لیے مولانا مرحوم کا ایک اصول تھا۔ اِس اصول کو مولانا نور عالم خلیل امینی نے اپنے ایک مضمون میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’اِس مسئلے میں مولانا کے ذہن میں خانے بنے ہوئے تھے اور وہ اُن میں سے ہر ایک کو اُس خانے میں رکھتے جو انھوں نے اُس کے لیے متعین کیا ہوتا تھا، اور اسی ’’درجہ بندی‘‘ کے اعتبار سے، وہ اُن کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت کا معاملہ کرتے تھے‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 36 )

other sourceWords of another person or source

یہ اصول ہر شخص کے لیے ایک قابلِ تقلید اصول ہے۔ یہ اصول آدمی کو غیر ضروری ٹنشن سے بچاتا ہے۔ ایسا آدمی غیر ضروری قسم کی شکایتوں سے محفوظ رہتاہے۔ یہ ایک عملی اصول (practical formula) ہے اور تعلقات کے معاملے میں عملی اصول ہی ہمیشہ بہتر اصول ہوتا ہے۔

لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایتیں کیوں ہوتی ہیں، اِس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ دوسروں سے، زیادہ امید قائم کرلیتے ہیں اور جب وہ شخص ان کی زیادہ امید (over-expectation) پر پورا نہیں اترتا تو وہ اس کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔

اِس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ آپ کسی شخص سے وہی امید رکھئے جو باعتبارِ حقیقت اُس سے رکھنا چاہیے۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کی امید پر پورا نہ اترے تو آپ صرف یہ کیجئے کہ اس کا ’’خانہ‘‘ بدل دیجئے۔ پہلے اگر آپ نے اُس کو کٹیگری اے میں رکھا تھا، تو اب آپ اس کو کٹیگری بی یا کٹیگری سی میں ڈال دیجئے۔ اس کے بعد اُس آدمی کو لے کر آپ کے اندر نہ کوئی ٹنشن ہوگا اور نہ کوئی شکایت۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content