ڈاکٹر طٰہ حسین (وفات:1973 ) مشہور عربی ادیب ہیں۔ وہ 1889 میں مصر میں پیداہوئے۔ انھوںنے الازہر میں تعلیم پائی۔ اس کے بعد انھوں نے فرانس کی یونی ورسٹی ساربونے سے ابن خلدون کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ عربی ادب اور تاریخ پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں موجود ہیں۔ 84 سال کی عمر میں قاہرہ میں ان کا انتقال ہوا۔
ڈاکٹر طہ حسین جب تین سال کے تھے تو وہ چیچک (chicken pox)کی بیماری میں مبتلا ہوئے اور اِسی بیماری میں وہ نابینا (blind) ہوگئے۔ مگر ان کا نابینا ہونا ان کے حصولِ علم میں رکاوٹ نہیںبنا۔ غیر معمولی محنت کے ذریعے ڈاکٹر طہٰ حسین نے عربی زبان میں اتنی ترقی کی کہ وہ عمید الأدب العربی کہے جانے لگے۔
اِس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کے اندر فطری طورپر اتنا زیادہ امکانات (potentials) ہوتے ہیں کہ کوئی بھی عذر اس کو اعلیٰ ترقی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔
کسی آدمی کا اندھا ہونا بظاہر بہت بڑی معذوری ہے، لیکن تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جب کہ کسی شخص نے اندھا ہونے کے باوجود بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے کوئی عذر، عذر نہیں۔ کوئی جسمانی نقص، کوئی مالی نقصان، کوئی نامساعد صورتِ حال، کوئی اتفاقی یا غیر اتفاقی حادثہ، انسان کا راستہ روکنے والا نہیں بن سکتا۔ ہر عورت اور مرد لامحدود صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ اِسی طرح آدمی کی اپنی ذات کے باہر جو مواقع (opportunitie) ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔
انسا ن کو چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت ِحال میں مایوس نہ ہو، وہ ہر حال میں اپنا حوصلہ برقرار رکھے، وہ ہر ناکامی کو وقتی ناکامی سمجھے۔ جس شخص کے اندر اِس قسم کا عزم (determination) ہو ، کوئی بھی چیز اس کو ترقی سے روکنے والی نہیں بن سکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.