تنقید ایک صحت مند علامت ہے۔ تنقید کا مطلب عیب زنی اور الزام تراشی نہیں، بلکہ تنقید کا مطلب ہے — دلائل کی زبان میں اپنا اختلاف بتانا یا کسی نقطۂ نظر کا منطقی تجزیہ کرنا، کسی نقطہ نظر کے حسن وقبح کو علمی انداز میں بیا ن کرنا۔
اِس قسم کی تنقید بلا شبہہ ایک صحت مند علامت ہے۔ تنقید اور تجزیہ کا ماحول مسلسل ذہنی ارتقا کا ضامن ہے۔ جہاں تنقید نہ ہو، وہاں ذہنی جمود پیدا ہوجائے گا:
No criticism leads to intellectual stagnation.
تنقید انسانوں کی پہچان کی ایک کسوٹی ہے۔ اگر آپ کسی بڑی شخصیت پر تنقید کریں اور اس کو سن کر لوگ غصہ ہوجائیں تو وہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔ اور اگر آپ کی تنقید کو سن کر لوگ دلیل کی زبان میں اس کا تجزیہ (analysis) کریں تو وہ اصول پسند لوگ ہیں۔
صحت مند تنقید (healthy criticism) کا یہ فائدہ ہے کہ زیر بحث معاملے کے مختلف گوشے واضح ہوتے ہیں۔ لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ وسیع ذہن کے ساتھ کسی معاملے پر غور کرسکیں۔
جب دو آدمی کھلے ذہن کے ساتھ آپس میں آزادانہ بتادلۂ خیال کرتے ہیں تونئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ معاملے کے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں۔ اِس طرح طرفین کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ منقح اندازمیں بات کو سمجھ سکیں۔
غیر تنقیدی ماحول گویا کہ مقلدانہ ماحول ہے۔ ایسے ماحول میں فطری طورپر ایسا ہوگا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجائے گا، ان کی سوچ محدود ہو کر رہ جائے گی، اُن کے ذہنی افق میں وسعت پیدا نہ ہوسکے گی، وہ نئی حقیقتوں سے بے خبر ہو کر رہیں گے، وہ ترقی کے زیادہ اعلیٰ درجات طے کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ تنقید ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے، اور تنقید کو شجرِ ممنوعہ قرار دینا ذہنی جمود(intellectual stagnation) کا ذریعہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.