’’امام ابو یوسف (وفات:798 ء) بسترِ مرگ پر ہیں۔ شدید بیمار ہیں اور اِس حالت میں ایک شاگرد عیادت کے لیے جاتا ہے اور جاکر حال پوچھتا ہے، توحال تو مختصراً بتادیا، پھر فوراً اُس شاگرد سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ حج میں رمیِ جمرات سوار ہو کر افضل ہے کہ پیدل افضل ہے۔ شاگرد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ حضرت، پیدل کرنا افضل ہوگا، کیوں کہ پیدل کرنے میں مشقت زیادہ ہے۔ فرمایا کہ نہیں، کہا اچھا پھر سوار ہو کر کرنا افضل ہوگا۔ فرمایا کہ نہیں، بلکہ پہلے دن کی جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرنا افضل ہے۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رمی سوار ہو کر کی تھی، اور باقی دنوں میں پیدل چل کر(رمی) کرنا افضل ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ رمی) پیدل چل کر کی تھی۔ یہ مسئلہ اُس کو بتا دیا۔ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ سن کر جب میں باہر نکلا، چند قدم چلا تھا تو گھر سے لوگوں کے رونے کی آواز آ ئی۔ پتہ چلا کہ روح پرواز کرگئی۔‘‘
ایک مشہور عالم نے علماء کے ایک جلسے میں تقریر کی۔ انھوں نے نہایت جوش کے ساتھ مذکورہ واقعہ بیان کیا، جو اُن کے نزدیک طلب علم کا ثبوت تھا۔ لیکن اگر خالص قرآن اورحدیث اور اسوۂ صحابہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اُس وقت کہنے والے کو طلب آخرت کی بات کہنا چاہیے تھا۔ جب کوئی شخص بستر مرگ پر ہو تو اُس وقت یہ موقع نہیں رہتا کہ آدمی جزئی مسائل میں اپنا دماغ لگائے۔ اُس وقت اس کو صرف موت یاد آنی چاہیے اور ملنے والوں کو آخرت کی یاد دلانی چاہیے۔
بستر مرگ پر ایک مومن کی کیا کیفیت ہونی چاہیے، اس کا اندازہ صحابی ٔ رسول حضرت ابو ہریرہ کے واقعے سے ہوتا ہے۔ مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ اپنے مرضِ موت میں روئے۔ اُن سے پوچھاگیا کہ کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمھاری اِس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اِس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میںنے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت یا جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے اِن دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (أصبحتُ فی صعود مہبطۃ علی جنۃ ونار، فلا أدری إلی أیہما یسلک بی) ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔