بائبل کا ایک قدیم نسخہ دریافت ہوا ہے جو سترھویں صدی عیسوی میں تیار کیاگیا تھا۔ اِس نسخے میں ایک عجیب غلطی پائی جاتی ہے۔ بائبل کے ایک باب میں یہ حکم ہے کہ تم زنا نہ کرنا۔ مگر اِس نسخے میں غلطی سے یہ درج ہوگیا کہ — تم زنا کرنا:
Thou shalt commit adultery
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم آسمانی صحیفوںمیں کس طرح غلطیاں ہوئیں جس کے نتیجے میں یہ قدیم آسمانی صحیفے غیر مستند ہوگئے۔
یہ قرآن کی ایک معجزاتی صفت ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اور اس کے بعد پوری امت نے اس کی حفاظت کا اتنا زیادہ اہتمام کیا کہ قرآن کے متن (text) میں کسی بھی قسم کی چھوٹی یا بڑی غلطی شامل نہ ہوسکی۔ قرآن آج بھی اُسی طرح ایک محفوظ کتاب (preserved book) ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر نازل ہوا تھا:
‘Wicked Bible’, which shocked readers with the phrase ‘Thou shalt commit adultery’, is to go on public display for the first time. The notorious seventeenth century book will be displayed along with a collection of rare religious texts at Cambridge University. The exhibition will feature a 1631 edition of the Bible in which the word “not” was accidently omitted from the commandments. The books were mostly destroyed and only handful of copies survive. (The Times of India, New Delhi, Tuesday, January 18, 2011 page 19)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن اور دوسری قدیم آسمانی کتابوں میں کیا فرق ہے۔ پچھلی آسمانی کتابوں کے ساتھ کوئی ٹیم نہ بن سکی جو اُن کی حفاظت کا اہتمام کرسکے۔ قرآن کے ساتھ استثنائی طور پر ایک طاقت ور ٹیم بنی اور پھر نسل درنسل ایک طاقت ور امت اس کی حفاظت کا اہتمام کرتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابیں اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکیں، جب کہ قرآن اپنی اصل حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔