Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2011
Al-Risala May 2011

معرفت کا اسٹیج

Urdu · 2 min read

ولیم شیکسپئر (William Shakespeare) ایک انگریز ادیب تھا۔ وہ 1564 میں پیدا ہوا اور 1616 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاعر اور ڈرامہ نویس کی حیثیت سے معروف ہے۔ شیکسپئر کا ایک قول ہے — پوری دنیا ایک اسٹیج ہے اور تمام مرد اور عورت اس کے ایکٹر اور ایکٹریس ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

All the world’s a stage, and all the men and are merely players.

اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ ایک اسٹوری رائٹر (story writer) جب دنیا کو دیکھتا ہے تو پوری دنیا اس کے دماغ میں ایک بہت بڑی کہانی (story) کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ہر طرف اس کو اپنی کہانی کے کردار دکھائی دیتے ہیں۔

یہی معاملہ ایک سچے مومن کا بھی ہے۔ ایک مومن جو ہر وقت خالق کے بارے میں سوچتا ہے، وہ جب عالمِ تخلیق کو دیکھتا ہے تو پورا عالم اس کے لیے معرفت کا عالم بن جاتا ہے۔ اس کو اپنے ہر مشاہدے میں ایمان کی زندہ غذا ملنے لگتی ہے۔ ہر تجربہ (experience)اس کے لیے اس کے یقین میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔

شیکسپئر کا قول کامیاب اسٹوری رائٹر کو بتاتا ہے۔ یہی معاملہ ایک سچے مومن کا بھی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو غور وفکر کے ذریعے خالق کو دریافت کرے۔ اس کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کے دل ودماغ پر چھا جائے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ اس کو ہر طرف خالق کی جھلک دکھائی دینے لگے گی۔ وہ ہر مشاہدے میں آلاء اللہ (wonders of God)کو دیکھے گا۔ وہ ہر تجربے میں خالق کی کارفرمائی دریافت کرے گا۔ اس کے لیے پوری کائنات ربانی غذاؤں کا وسیع دستر خوان بن جائے گی۔ یہی معرفت ہے اور ایسے ہی انسانوں کو عارف باللہ کہاجاتا ہے۔ معرفت کوئی پر اسرار (mysterious) چیز نہیں۔ معرفت دراصل خدائی بنیادوں پر پیش آنے والے فکری انقلاب کا دوسرا نام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content