آدمی جس دنیا میں رہتا ہے، وہاں بظاہر اس کو سب کچھ ملا ہوا ہے— موافق زمین، سورج کی روشنی، ہوا، آکسیجن، پانی، خوراک، خاندان، جماعت، اِدارے، حکومتی نظام، غرض زندگی کی مددگار وہ تمام چیزیں جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کو پیدا ہوتے ہی مل جاتی ہیں، اورپھر تمام عمر اس کو حاصل رہتی ہیں۔ اس بنا پر آدمی ان چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) طور پر لے لیتا ہے، وہ سوچ نہیں پاتا کہ یہ چیزیں کبھی اس سے چھن جائیں گی۔ لیکن ہر آدمی کے لیے مقدر ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد ا س پر موت آئے، اور تمام چیزیں اچانک اس سے چھن جائیں، آدمی اب بھی وہی ہو جو کہ موت سے پہلے تھا، لیکن زندگی کے تمام اسباب مکمل طور پر اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں، سب کچھ رکھنے والا آدمی، ایک لمحہ میں، بے کچھ ہو کر رہ جائے۔ یہ ایک ہونے والا واقعہ ہے، جو لازماً ہر ایک کے سامنے یقینی طور پر آئے گا، عورت کے ساتھ بھی اور مرد کے ساتھ بھی۔ یہی وہ چیز ہے جس پر سوچنے والے سب سے زیادہ سوچیں، یہی وہ چیز ہے جس کو تمام عورت اور مرد اپنا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنائیں، یہی وہ چیز ہے جس کے تصور کو لے کر آدمی شام کو سوئے اور صبح کو جاگے۔آدمی کے لئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیسے ایسا ہو کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں دوبارہ وہ سب کچھ پالے جو موت سے پہلے کی زندگی میں اس کو ملا ہوا تھا۔ یہی ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اسی مسئلہ کو حل کرنے میں انسان کی کامیابی ہے، اور اسی مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہنے کا نام، ناکامیابی ہے۔ انسان کا سفر بظاہر سب کچھ سے بے کچھ کی طرف ہورہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دوبارہ کس طرح یہ ممکن ہو کہ آدمی کا سفر بے کچھ سے سب کچھ کی طرف ہوجائے۔ اس کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی خالق کے تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ یہ تخلیق کا منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی موت سے پہلے کی زندگی میں خدا کے راستے پر چلے، وہ اپنے آپ کو خدا کا مطلوب بندہ بنائے— خود رخی زندگی آدمی کو ابدی تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور خدا رخی زندگی اس کو ابدی سعادت تک پہنچانے والی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔