Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2011
Al-Risala May 2011

ذہنی ارتقا کا ذریعہ

Urdu · 2 min read

ابو الدرداء عُویمر بن مالک الانصاری ایک معروف صحابی ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور 32 ہجری مطابق 652عیسوی میں شام میں ان کی وفات ہوئی۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عُویمر حکیم أمّتی (ابو الدرداء میری امت کے ایک دانش مند شخص ہیں)۔ اِسی طرح ابن الجزری نے ان کے بارے میں کہا: کان من العلماء الحکماء (الأعلام للزرکلی 5/98 ) یعنی ابو الدرداء علم اور حکمت والے لوگوں میں سے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابو الدرداء انصاری کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: لا تفقہ کلَّ الفقہ حتی تمقت الناسَ فی جنب اللہ، ثم ترجع إلیٰ نفسک فتکون أشد لہا مقتاً (مصنّف ابن أبی شیبۃ، رقم الحدیث: 35726 ) یعنی تم پورے معنوں میں دانش مند نہیں ہوسکتے، یہاں تک کہ تمھارا یہ حال نہ ہوجائے کہ تم اللہ کے معاملے میں لوگوں کے خلاف سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرو۔ پھر تم اپنی طرف واپس آؤ تو خود اپنی اوپر اُس سے بھی زیادہ ناپسندیدگی کا اظہار کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کے اندر کوئی برائی دیکھتا ہے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر پاتا، وہ اس کو اس برائی پر ٹوکتا ہے اور نہایت سخت اندا ز میں وہ اس پر تنقید کرتاہے۔ یہ دوسروں کا محاسبہ کرنے کا معاملہ ہے۔ اِسی کے ساتھ مومن کے اندر خود احتسابی (self-introspection) کا شدید جذبہ ہوتا ہے۔ بعد کو وہ سوچتا ہے کہ اگر چہ میری بات درست تھی، لیکن مجھے یہ حق نہ تھا کہ میں اپنی بات کہنے کے لیے اتنا سخت انداز اختیار کروں۔

یہ خود احتسابی اُس کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اِس کی وجہ سے اس کے ذہن کے نئے گوشے کھل جاتے ہیں۔ اس کی عقل ودانش میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے ذہن کے ایسے دروازے کھل جاتے ہیں جو اب تک کھلے نہ تھے۔ اِس شدید خود احتسابی کے بغیر کسی شخص کا ذہنی اور روحانی ارتقا ممکن نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content