Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala May 2011
Al-Risala May 2011

تخریبی سیاست

Urdu · 4 min read

مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ — ظالم حکمراں کے خلاف بغاوت، خدا کے لیے وفاداری ہے:

other sourceWords of another person or source

Rebellion to a tyrant, obedience to God.

یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اِسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔

اِس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہر گز اسلامی سیاست نہیں ہے۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اِس سیاست کا بانی ٔ اول خود شیطان ہے۔ آج جو لوگ اِس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلا شبہہ شیطان کی پیروی کررہے ہیں، نہ کہ اسلام کی پیروی۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقِ انسانی سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اُس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی — فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اِس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ انسانی تاریخ میں ، اتھارٹی (authority)کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالٹکس آف اپوزیشن (politics of opposition) بلا شبہہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکراؤ کرکے پالٹکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔

عجیب بات ہے کہ شیطان کی یہ منفی سیاست پوری تاریخ میں مسلسل طورپر جاری رہی ہے، اہلِ ایمان کے درمیان بھی اورغیر اہلِ ایمان کے درمیان بھی۔ اِس منفی سیاست کا یہ براہِ راست نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ، تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔

ایسا کیوں ہے کہ ساری تاریخ اِس قسم کی شیطانی سیاست کی تاریخ بن گئی۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ خالق نے انسان کو ایک استثنائی صلاحیت دی ہے، یعنی ایگو(ego)۔ یہ دراصل ایگو ہے جو انسان کو پوری کائنات میں ایک خصوصی درجہ عطا کرتا ہے۔ لیکن انا کے دو پہلو ہیں — پلس پوائنٹ، اور مائنس پوائنٹ۔ اجتماعی زندگی، خواہ وہ خاندانی زندگی ہو، یا خاندان سے باہر کی زندگی، اُس میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ ایسے تجربات پیش آتے ہیں کہ اس کا ایگو (انا) جاگ اٹھتا ہے۔ اِس طرح کے موقع پر اگر ایسا ہو کہ انسان اپنے آپ کو کنٹرول کرے، وہ ایگو مینجمنٹ (ego management) کا ثبوت دے، تو گویا کہ اُس نے اپنے ایگو کا صحیح استعمال کیا۔ اور اگر ایسا ہو کہ جب اس کا ایگو بھڑکے تو اس کی پوری شخصیت اُس سے متاثر ہو جائے۔ ایسی حالت میں وہ سرکشی کے راستے پر چل پڑے گا۔ یہ اس کے لیے ایگو مینجمنٹ میں ناکام ہونے کا واقعہ ہوگا۔

ایگو کا یہ واقعہ انسان کے درمیان ہر جگہ پیش آرہا ہے۔ یہی واقعہ جب سیاسی میدان میں پیش آئے تو اِسی کا نام پالٹکس آف اپوزیشن ہے، اسی کا نام پولٹکل اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے۔ چوں کہ بیش تر لوگ ایگو مینجمنٹ کے امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں، اِس لیے پوری تاریخ میں وہ منظر دکھائی دیتا ہے جس کو سیاسی تخریب کاری (political destruction) کے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔

اِس مسئلے کا حل قرآن اور حدیث میں صبر کی سیاست بتایا گیا ہے۔ صبر کی سیاست کوئی پسپائی کی سیاست نہیں ہے، صبر کی سیاست دراصل پولٹکل اسٹیٹس کو ازم (political statusquoism) کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے معاملے میں صورتِ موجودہ کو عملاً قبول کرنا، سیاسی اقتدار سے ٹکرائے بغیر، غیر سیاسی میدان میں موجود مواقع کو استعمال کرنا۔ یہی وہ فارمولا ہے جس کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن اللہ یعطی علی الرّفق، ما لا یعطی علی العنف (صحیح مسلم،رقم الحدیث: 2593 ) یعنی اللہ عدم ٹکراؤ کے طریقِ کار پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ ٹکراؤ کے طریقِ کار پر کسی کو نہیں دیتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content