ایک مشہور قول ہے: حبّ الوطن من الإیمان (الدرر المنتثرۃ فی الأحادیث المشتہرۃ، للسیوطی، 1/9) یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ محدثین عام طورپر اِس قول کو حدیث رسول نہیں مانتے، وہ اِس کو ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم کچھ علماء نے اس قول کو معنوی اعتبار سے درست قرار دیا ہے۔ مثلاً آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم محمد بن عبد الرحمن شمس الدین السخاوی (وفات:1497 ء) نے اِس قول کے بارے میں لکھا ہے کہ: لم أقف علیہ، ومعناہ صحیح (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 183 ) یعنی میں اِس حدیث سے واقف نہیں، لیکن اس کا مفہوم درست ہے۔ محدثین کے اصول کے مطابق، امام السخاوی کے اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول حدیثِ رسول کے طورپر ان کو نہیں ملا، لیکن دینِ اسلام میں اس کی اصل پائی جاتی ہے۔
راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ یہ قول اگر حدیثِ رسول نہ ہو تب بھی وہ حدیث ِ فطرت ہے۔ وہ انسانی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور فطرت کا تقاضا ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ حب وطن (patriotism) کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ اسلام جب دین فطرت (religion of nature) ہے تو فطرتِ بشری کی ہر چیز اسلام کا ایک حصہ قرار پائے گی۔
ہر انسان کو اپنی ماں سے محبت ہوتی ہے۔ ہر مسلمان اپنی ماں سے محبت کو اپنے ایمان کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ اگرچہ کوئی حدیثِ رسول اِن الفاظ میں موجود نہیں کہ: حب الأم من الإیمان (ماں سے محبت ایمان کا حصہ ہے)۔ اِسی طرح وطن سے محبت بھی بلاشبہہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی جس ملک میں پیدا ہوا، جہاں اُس کی پرورش ہوئی، جہاں کی ہوا میں اس نے سانس لیا، جہاں کے لوگوں سے اس کے تعلقات قائم ہوئے، جہاں اُس نے اپنی زندگی کی تعمیر کی، ایسے ملک سے محبت کرنا انسانی شرافت کا تقاضا ہے، اور اِسی طرح وہ انسان کے ایمان واسلام کا بھی تقاضا ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔