قرآن کی آیتوں کی تفسیر میں بہت سی روایات، حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اِن روایات کو شانِ نزول یا اسباب نزول کی روایت کہاجاتا ہے، اِن روایات کے بارے میں عام طور پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں — ایک ، یہ کہ یہ روایات قرآن فہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ یہ روایات قرآن فہمی کے معاملے میں صرف ثانوی ماخذ (secondary source) کی حیثیت رکھتی ہیں، ان روایات کو اولین ماخذ(primary source)کا درجہ حاصل نہیں۔
مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روایات ہمارے لیے مستند بیک گراؤنڈ (authentic background) فراہم کرتی ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے معاصر حالات تھے جب کہ قرآن کا کوئی حصہ رہنمائی کے طورپر اتارا گیا۔ قرآن کا اسلوب تبیین کا اسلوب ہے۔ تفسیری روایات وہ تاریخی مواد فراہم کرتی ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تبیین کو تعین (specification) کی زبان میں بیان کیا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تفسیری روایت کے بغیر قرآن کو پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور پر إنا فتحنا لک فتحاً مبینا (48: 1) میں صلح حدیبیہ کے واقعہ کا حوالہ دیاگیا ہے، لیکن اِس واقعہ کی تفصیلات پوری سورہ میں کہیں موجود نہیں۔ یہ تفصیلات ہم کو صرف تفسیری روایات میں ملتی ہیں۔ اِس اعتبار سے، تفسیری روایات کی بے حد اہمیت ہے۔
قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اِس اعتبار سے، قرآن کا موجودہ اسلوب ایک دعوتی اسلوب ہے۔ اِس دعوتی اسلوب نے قرآن کے اسلوب کو ایک طوفانی اسلوب کا درجہ دے دیا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہے کہ قرآن جب پڑھا جاتا ہے تو سننے والے پر اس کا غیر معمولی اثر پڑتا ہے۔ یہ اسلوب غالباً کسی بھی دوسری کتاب میں موجود نہیں۔ صرف حضرت مسیح کے مواعظ (exhortations) میں جزئی طورپر یہ اسلوب پایا جاتا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تفسیری روایات گویا کہ قرآن میں فنی تفصیلات کی عدم موجودگی کی تلافی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔