ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری نے اس کو چار ابواب، کتاب الادب، کتاب المظالم، کتاب التوحید، کتاب التفسیر، کے تحت درج کیا ہے۔ اِس روایت کا ترجمہ یہ ہے: صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ایک آدمی (سعید بن جبیر التابعی) نے عبد اللہ بن عمر سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجویٰ (خدا اور بندہ کے درمیان سرگوشی) کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص (حشر کے دن) اپنے رب کے پاس آئے گا، یہاں تک کہ وہ خدا سے بالکل قریب ہوجائے گا۔ اللہ اُس سے کہے گا کہ تم نے ایسا کیا اور ایسا کیا۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر اللہ اس شخص سے کہے گا کہ تم نے ایسا اور ایسا کیا۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر بندہ اپنے (گناہ) کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمھاری پردہ پوشی کی، اب آج میں تم کو معاف کرتا ہوں۔ (إنّی سترتُ علیک فی الدنیا، فأنا أغفرہا لک الیوم) صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب ستر المؤمن نفسہ۔
مسلم نے اِس روایت کو کتاب التوبہ کے تحت نقل کیا ہے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اُس انسان کا کیس ہے جس سے گناہ کا واقعہ ہو جائے، پھر وہ شدید طورپر توبہ اور استغفار کرے، یہ صرف قیامت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اِس دنیا میں پیش آنے والے ایک واقعے کا اخروی پہلو ہے، یعنی دنیا میں بندہ نے نہایت شدید طورپر توبہ واستغفار کا ثبوت دیا تھا، اِس بنا پر قیامت کے دن اللہ کی خصوصی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو گی اور اس کو بخشش کا پروانہ دے دیا جائے گا۔اِس روایت میں دراصل ایسے انسان کا ذکر ہے جس سے بشری تقاضے کے تحت کوئی غلطی سرزد ہوجائے، مگر اِس کے بعد وہ غفلت یا سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کرے، بلکہ وہ شدید قسم کے توبہ وانابت کا ثبوت دے۔ یہ توبہ وانابت صرف ایک بار بوقتِ گناہ نہ ہو، بلکہ وہ ساری عمر اللہ سے معافی کا طلب گار بنا رہے، وہ صبح وشام اللہ کی پکڑ سے ڈرتا رہے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قیامت میں مذکورہ قسم کی خصوصی رحمت ومغفرت حاصل ہوگی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔