ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رُبَّ أشعث أغبرَ مدفوع بالأبواب، لو أقسم علی اللہ لأبرّہ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب) یعنی کچھ (اللہ کے بندے) ایسے ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ضرور ان کی قسم پوری کرے گا۔
اِس سے مراد کوئی مجذوب انسان نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد بامقصد انسان ہے۔ جو آدمی ربانی مقصد کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے، وہ اِس مقصد میں اتنا زیادہ گم ہوجائے کہ اس کو جسمانی آرائش کی کوئی فکر نہ رہے، ربانی مقصد کے سوا جس کا کوئی اور مقصدِ حیات نہ رہے، اُس انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہ خصوصی معاملہ ہوتا ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیاگیا ہے۔
تاہم یہ حدیث مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ اِس سے مراد مادّی چیزیں یا دنیوی مرغوبات نہیں ہیں۔ اِس قسم کی چیزیں مذکورہ انسان کا ہدف نہیںہوتیں۔ اِس لیے وہ ان کا طالب بھی نہیں بنتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اِس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو بامقصد زندگی کا تقاضا ہوتی ہیں۔ ایک بامقصد انسان جب اپنے آپ کو ربانی مقصد میں لگا دیتا ہے تو ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اپنے وسائل (resources) ناکافی ہیں اور خدا کی خصوصی مدد کے بغیر وہ اپنے مقصدی سفر کو جاری نہیں رکھ سکتا، اُس وقت وہ بے قرار دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے اور اپنے رب کی طرف سے اس کا مثبت جواب پاتا ہے۔
یہی وہ استثنائی معاملہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ حدیث کسی انسان کے پراسرار (mysterious)معاملے کو نہیں بتاتی، یہ اُس انسان کے فطری معاملے کو بتاتی ہے جو ربانی مقصد میں اپنے آپ کو آخری حد تک شامل کردے، خدا کے سوا جس کے لیے کوئی اور چیز اُس کے مدعائے حیات کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔