حضرت موسی کے زمانے میں بنی اسرائیل مصر میں آباد تھے۔ وہ 1447 قبل مسیح میں حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصر سے نکلے اور صحرائے سینا (Sinai) میں پہنچ کر وہاں آباد ہوئے۔ اُس وقت ان کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ تھی۔ اُس وقت وہاں صحرا اور پہاڑ کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی معاشیات کے لیے ایک خصوصی انتظام کیا جس کو من وسلویٰ (2: 57) کہاجاتاہے۔ بنی اسرائیل سے یہ مطلوب تھا کہ وہ معاش کے اِس خصوصی انتظام پر خدا کا شکر ادا کریںاور اپنے آپ کو پوری طرح دین کی خدمت میں لگا دیں۔یہی خدائی انتظام موجودہ زمانے میں بنو اسماعیل (امتِ محمدی) کے ساتھ ایک نئی صورت میں کیاگیا ہے۔ عرب دنیا (Arab world) جس کو شرقِ اوسط (Middle East) کہاجاتا ہے، اس کی زمین کے نیچے دنیا کے تیل کا تقریباً 80 فی صد حصہ پایا جاتا ہے۔ یہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ ماہرین اِس کو جغرافی اتفاق (geographical accident) کہتے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ جغرافی اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ واقعہ خدا وند عالم کے فیصلے کے تحت پیش آیا ہے۔
یہ خدائی انتظام اِس لیے کیا گیا ہے تاکہ صنعتی دور میں امتِ محمدی معاشیات سے فارغ ہو کر اپنے دینی رول کو ادا کرسکے۔ اِس دینی رول کے دو پہلو ہیں — ایک ہے دین کی حفاظت، اور دوسرا ہے دعوت الی اللہ کے عمل کا جاری رکھنا۔ امتِ محمدی کو اصلاً تیل کی دولت دین کی حفاظت، اور دعوت الی اللہ کے اِسی کام کے لیے دی گئی ہے۔
اِس معاملے میں امتِ محمدی سے جو مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے اُس میں سے صرف ضرورت کے بقدر لیں اور بقیہ تمام مال وہ دین کی حفاظت ودعوت کے کام میں استعمال کریں۔ من وسلویٰ کے خدائی انتظام کے ذریعے امتِ موسیٰ سے جو مطلوب تھا، وہی تیل کے انتظام کے ذریعے اب امتِ محمدی سے مطلوب ہے۔ دونوں کے درمیان ظاہری صورت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن ذمے داری کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔