حدیث میںآیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما رأیت مثل الجنۃ نام طالبہا (الترمذی، کتاب الجنۃ)۔ اِس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ جنت کا مستحق وہ شخص ہے جو حقیقی معنوں میںجنت کا طالب بن جائے۔ مگر انسان اتنا زیادہ غافل ہے کہ وہ جنت جیسی قیمتی چیز کا طالب نہیںبنتا اور غفلت کی نیند سوتا رہتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب ایک شخص جنت کی اہمیت کو دریافت کرلے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ وہ اس کا طالب بن جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آدمی دنیا کی ہر چیز میں جنت کی جھلک دیکھنے لگتاہے۔ ہر تجربہ اُس کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جاتا ہے، جس کے حوالے سے وہ جنت کو یاد کرے اور اللہ سے جنت کی دعا کرتا رہے۔ جنت کی دریافت سے آدمی جنت کا طالب بنتا ہے، اور جب ایک شخص حقیقی معنوںمیں جنت کا طالب بن جائے تو وہ بار بار جنت کی دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے۔
مثال کے طورپر ایسا ایک طالبِ جنت، قرآن کو پڑھتے ہوئے سورہ النساء کی اِس اٰیت تک پہنچتا ہے: وإن أردتم استبدال زوجٍ مکانَ زوج واٰتیتم إحداہنّ قنطاراً فلا تأخذوا منہ شیئا (4: 20) یعنی اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اُس پہلی بیوی کو بہت سا مال دے چکے ہو، تو تم اُس مال میں سے کچھ بھی اُس سے واپس نہ لو۔
ایک طالب جنت جب اِس آیت کو پڑھتا ہے تو اس کے اندر سوچ کا ایک طوفان جاگ اٹھتا ہے۔ اِس آیت میںاللہ تعالیٰ نے اعلیٰ اخلاق کا ایک اصول بتایا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرتا ہے۔ اِس تعلق کے دوران وہ اس کو کافی مال دے دیتا ہے۔ اِس کے بعد اُس کے دماغ میں کسی وجہ سے ایک سکنڈ تھاٹ (second thought) آتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اِس پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسری خاتون سے نکاح کرلے۔ مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اِس موقع پر تم ایسا نہ کرو کہ سابقہ بیوی سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے لو۔ جو مال تم اس کو دے چکے ہو، اُس کو واپس لینا، اعلیٰ اخلاقی اصول کے خلاف ہے۔
قران کی یہ آیت بظاہر طلاق کے بارے میں ہے، لیکن اس کے اندر ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) موجود ہے۔ اِس کو لے کر ایک طالب اپنی جنت کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ وہ یہ کہے کہ — خدایا، تونے اپنی کتاب میں یہ اصول بتایا ہے کہ دی ہوئی چیز کو واپس لینا درست نہیں۔ اِسی طرح تو نے مجھے دنیا کی زندگی میں بے شمار چیزیں عطا کیں۔ یہ چیزیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ کسی شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کو دئے ہوئے قنطار (treasure) سے ہزاروں بلین گنا سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔ پھر کیا تو میرے ساتھ ایسا کرے گا کہ تو مجھے اپنی رحمت کا قنطار دے اور موت کے بعد کے دورِ حیات میں تو مجھ سے تمام دی ہوئی چیزیں واپس لے لے اور مجھ کو محروم کرکے چھوڑ دے۔ جس اعلیٰ اخلاقی اصول کی تعلیم تو نے انسان کو دی ہے، میں امیدکرتا ہوں کہ تو مزید اضافے کے ساتھ یہی اعلیٰ اخلاقی معاملہ میرے بارے میں کرے گا۔
قرآن کی اس آیت میں طلاق کا ایک حکم بیان کیاگیا ہے۔ قرآن میں طلاق کا مادہ 15 بار آیا ہے، لیکن اِس آیت میں استثنائی طورپر طلاق کے بجائے، استبدال (replacement) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظی فرق بے حد با معنی ہے۔ یہ ایک طالبِ جنت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ یہ سوچ سکے کہ استبدالِ زوج کی طرح میرا معاملہ بھی استبدالِ مقام کا معاملہ ہے، یعنی موت کے بعد موجودہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں جانا۔
اِس مشابہت میں طالب جنت کے لیے ایک بشارت (good tiding) موجود ہے۔ وہ یہ سوچ سکتاہے کہ استبدالِ زوج کا معاملہ میرے استبدالِ مقام کے معاملے پر بھی یکساں طورپر چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ یہاں ایک طالبِ جنت یہ امید کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کا لفظی فرق اِس لیے رکھا، تاکہ ایک طالب جنت اِس میں اپنی تصویر دیکھے اور گہری امیدوں کے ساتھ وہ اللہ سے جنت کا طالب بن جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔