قرآن کی سورہ الانبیاء میں ارشاد ہوا ہے: لقد أنزلنا إلیکم کتابا فیہ ذکرکم (21: 10) یعنی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمھارا ذکر ہے، پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔ قرآن کی اِس آیت میں ’’ذکر‘‘ سے مراداصلاً تذکیر یا یاد دہانی ہے، لیکن اس کا ایک توسیعی مفہوم بھی ہے۔ اِسی مفہوم میں مجاہدتابعی نے کہا: فیہ ذکرکم، أی فیہ حدیثکم (القرطبی 11/273 ) یعنی قرآن میں تمھاری بات ہے۔
راقم الحروف کو مجاہد تابعی کی اِس بات سے اتفاق ہے۔ میں نے خود ایسا کیا کہ قرآن کو بار بار پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ قرآن میں میرا ذکر کہاں ہے، یعنی قرآن کی وہ آیت کون سی ہے جس کو میں سمجھ سکتا ہوں اس میں میرا معاملہ مذکور ہے۔
آخر کار میں نے قرآن کی ایک آیت میںاپنا حوالہ پالیا۔ وہ قرآن کی سورہ حم السجدہ کی آیت نمبر 53 تھی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں اور انفس میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے کہ یہ (قرآن) حق ہے:
We shall show them Our signs in the universe and within themselves, until it becomes clear to them that this is the Truth. (41: 53)
جدید سائنس دراصل آیات ِ فطرت کا علم ہے۔ چناں چہ میں نے اِس پہلو سے دین کی خدمت کا فیصلہ کرلیا۔ میری تقریباً تمام کتابیں جدید علوم کی نسبت سے اسلام کی تشریح ہیں۔ ابتداء ً میں نے اِس پہلو سے چند پمفلٹ لکھے۔ مثلاً ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘ (1955)، ’’حقیقت کی تلاش‘‘ (1958)۔ اس کے بعد ایک باقاعدہ کتاب’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (1966) کے نام سے تیار کی ۔ میری تمام کتابیں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔میری تمام کتابوں کا ایک ہی مشترک عنوان ہے — عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔