دعوت الی اللہ ہر مسلمان پر اُسی طرح فرض ہے جس طرح اس کے اوپر نماز فرض ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بغیر ایک شخص مومن نہیں بنتا۔ اِسی طرح دعوت کی ادائیگی کے بغیر اس کا امتِ محمدی کا فرد ہونا متحقّق (established) نہیں ہوتا۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دعوت کو بھی اُسی طرح اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنائے جس طرح وہ نماز کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھتا ہے۔
قرآن کی سورہ العلق میں ارشاد ہوا ہے: علّم بالقلم (96: 4) ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت کی تحریک مبنی بر لٹریچر(literature-based) تحریک ہے۔ اصحاب رسول کا اسلوبِ دعوت یہ تھا کہ قرآن ان کے حافظہ میں رہتا تھا اور وہ قرآن کے حصے پڑھ کر مدعو کو سناتے تھے۔ اِسی لیے اُن کو مُقری (پڑھ کر سنانے والا) کہا جاتا تھا۔ موجودہ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں اِس کی صورت یہ ہے کہ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ اپنے پاس رکھے اور بوقتِ ملاقات وہ اُسے دوسروں کو دیتا رہے۔
اس کی ایک صورت یہ ہے ہر مسلمان اپنی دکان پر یا اپنے آفس میں قرآن کا ترجمہ رکھے اور وہ آنے والوں کو اُسے دیتا رہے۔ اصحابِ رسول اگرقرآن کے مقری بنے ہوئے تھے تو وہ قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن جائے۔
پیغمبر کی ذمے داری یہ تھی کہ وہ قرآن کو اپنے زمانے کے لوگوں تک پہنچائے۔ اب پیغمبر کی امت کے لوگوں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچائیں، وہ مسلسل طور پر بعد کی نسلوں میں پیغام رسانی کے اِس کام کو جاری رکھیں(6: 19) ۔
موجودہ زمانے میں مسلمان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سفر اور آمد ورفت کے دوران ان کی ملاقات دوسروں سے ہوتی ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے ساتھ قرآن کے ترجمے کی مطبوعہ کاپی رکھے تو ساری دنیا کے انسانوں تک قرآن پہنچ جائے گا۔ اِس طرح امتِ محمدی، آخرت میں خدا کے سامنے یہ کہہ سکے گی کہ —ہم نے ساری دنیا کے لوگوں تک تیری کتاب کو پہنچا دیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔