خدا کے وجود پر زندہ یقین سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ خدا کے وجود پر زندہ یقین نہیں کرپاتے، یہاں تک کہ کچھ لوگ اِس انتہا پسندی تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ خدا کے منکر بن جاتے ہیں۔ یہ ظاہرہ پوری انسانی تاریخ میں موجود رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔
ایسا اِس لیے ہے کہ اِس دنیا میں خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، تمام واقعات اسباب وعلل (cause and effect) کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ ہر واقعہ جو ہمارے علم میں آتا ہے، بظاہراُس کا ایک سبب دکھا ئی دیتا ہے۔ اِس بنا پر لوگ واقعہ کو اُس کے سبب کی طرف منسوب کردیتے ہیں، ظاہری مشاہدہ کی بنا پر وہ واقعات کو خدا کی طرف منسوب نہیں کر پاتے۔
یہ صورتِ حال ہمیشہ سے تاریخ میں موجود رہی ہے، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں کے بعد اُس نے ایک باقاعدہ نظریہ کی صورت اختیار کرلی ہے جس کو قانونِ تعلیل (law of causation) کہاجاتاہے۔ سائنسی تحقیقات نے جب دور بینی اور خورد بینی مشاہدات کے ذریعے کائنات میں ہونے والے واقعات کے پیچھے فطری اسباب کو دریافت کیا تو یہ سمجھا جانے لگا کہ سب کچھ اسباب کے تحت ہورہا ہے۔ سائنسی دریافتوں کے حوالے سے یہ کہاجانے لگا کہ — اگر واقعات فطری اسباب کے تحت ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کے تحت نہیں ہوسکتے:
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
یہی موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ ظاہری اسباب کے پیچھے خالق کی کارفرمائی کو دیکھ سکے۔وہ یہ دریافت کرسکے کہ اس معاملے میں اسباب محض ایک پردہ ہیں، نہ کہ اصل حقیقت۔
اِسی دریافت کا نام ایمان ہے، اور اِس دنیا میں جو لوگ اِس دریافت کا ثبوت دیں، وہی اللہ کے یہاں اِس قابل ٹھہریں گے کہ اُن کو انعام کے طورپر ابدی جنت میں داخل کیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.