ایک صاحب نے کہا کہ قرآن کے مطابق، حقیقی نمازوہ ہے جو خشوع (spirit) کے ساتھ ادا کی جائے (21:1) ۔ میرے جیسے آدمی کو اکثر خشوع والی نماز حاصل نہیں ہوتی، پھر نماز پڑھنے سے کیا فائدہ۔ میں نے کہا کہ جس طرح خشوع والی نماز کا فائدہ ہے، اُسی طرح بے خشوع والی نماز کا بھی فائدہ ہے۔ دونوںہی یکساں طورپر مطلوب ہیں۔
آدمی اگر خشوع والی نماز پڑھے تو اس کو ایک اطمینان حاصل ہوگا۔ وہ خشوع والی نماز (worship with spirit) کا درجہ حاصل کرے گا۔ اِس کے مقابلے میں، اگر کوئی شخص خشوع کے بغیر نماز ادا کرتا ہے، تب بھی اس کا ایک عظیم فائدہ ہے، وہ یہ کہ وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کی نماز بے خشوع کی نماز (worship without spirit) تھی۔ ایسی نماز بھی فائدے سے خالی نہیں۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احساس کہ میں دین کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، یہ اپنے آپ میں ایک مطلوب احساس ہے۔ آدمی کا احساس اگر یہ ہوکہ میں نے دین کے تقاضے پورے کردئے، تو اندیشہ ہے کہ اس کے اندرعُجب (pride) کا جذبہ پیدا ہو جائے، جو اس کی دین داری کو باطل کردے ۔ اِس کے برعکس، یہ احساس کہ میںنے بظاہر دین کے تقاضے تو پورے کئے، لیکن میرے اندر مطلوب اسپرٹ موجود نہ تھی۔ یہ احساس آدمی کے اندر عجز ا ور تواضع (modesty) کی کیفیت پیدا کرے گا، اور یہ ثابت ہے کہ عجز اور تواضع اپنے آپ میں ایک اعلیٰ ایمانی حالت ہے۔ عُجب کا احساس مواخذے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن عجز وتواضع ہر حال میں آدمی کو اجر کا مستحق بناتا ہے۔
مزید یہ کہ پانچ وقت کی نماز آدمی کے لیے ایک ریمائنڈر (reminder) کی حیثیت رکھتی ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد آدمی اپنے اِس احساس کو تازہ کرتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے اللہ کا فرماں بردار بن کر دنیا میں رہنا ہے۔ نماز اِسی قسم کی پنچ وقتہ عملی یاد دہانی ہے۔ نماز قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں، اپنے عجز ِتام کا علامتی اعتراف (symbolic acknowledgement) ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔