ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے- میں نے ایک صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے کوئی بات پوچھی- اس کے بعد مجلس کا ہر آدمی کچھ نہ کچھ بولنے لگا- میںنے اس پر سخت گرفت کی- میں نے کہا کہ یہ طریقہ آداب مجلس کے بالکل خلاف ہے- جب کوئی بات ایک متعین شخص سے پوچھی جائے تو اسی شخص کو اس کا جواب دینا چاہئے- بقیہ لوگوں کو خاموشی کے ساتھ صرف سننا چاہئے-
ایک صاحب نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی- میں نے کہا کہ یہ سادہ طور پر صرف غلطی کی بات نہیں، یہ اس بات کی علامت ہےکہ آپ لوگ مجلسی آداب کے بارے میں باشعور نہیں ہیں- اصل یہ ہے کہ آپ لوگ سنجیدگی کے ساتھ یہ عہد کریں کہ اب آپ لوگ اس انداز پر اپنی تربیت کریں گے کہ آپ ہر موقع پر آداب کلام کو سمجھیں اور اس کے مطابق ایسا کریں کہ بولنے کے موقع پر بولیں اور چپ رہنے کے موقع پر خاموش رہیں-
قرآن کی سورہ الحجرات میں یہ آیت آئی ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَــہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (49:2) یعنی اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو- کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو-
بظاہر اس آیت میں رسول اور اصحاب رسول کا ذکر ہے- لیکن قرآن کی کوئی آیت وقتی نہیں ہے، بلکہ ہر آیت میں تمام اہلِ ایمان کو ابدی تعلیم دی گئی ہے- اس اعتبار سے غور کیجئے تو قرآن کی اِس آیت میں عمومی حکم کو بتایا گیا ہے، اور وہ مجلس کے آداب کا حکم ہے- اس میں بتایا گیاہے کہ جب بھی کسی مجلس میں کئی آدمی بیٹھے ہوئے ہوں تو وہاں ہر ایک کوڈ سپلن کے ساتھ بولنا چاہئے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔