قرآن میں فتح (victory) کا لفظ اس معنی میں دو سورتوں میں آیا ہے، سورہ النصر اور سورہ الفتح- سورہ النصر میں فتح کا لفظ سیاسی فتح کے معنی میں ہے، یعنی مکہ کی فتح-لیکن سورہ الفتح میں یہ لفظ سیاسی فتح کے معنی میں نہیں ہے- کیونکہ یہ سورہ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت اتری تھی، اور معاہدہ حدیبیہ میں رسول اور اصحابِ رسول کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی- حدیبیہ کا سفر رسول اور اصحابِ رسول نے اس لئے کیا تھا کہ مکہ جاکر عمرہ ادا کریں، لیکن اس وقت مکہ پر قریش کا غلبہ تھا- انھوں نے آپ کو اجازت نہ دی اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو عمرہ کی ادائیگی کے بغیر درمیان سے مدینہ کی طرف واپس ہونا پڑا تھا-
سورہ النصر میں صرف فتح کا لفظ آیا ہے، جب کہ سورہ الفتح میں فتح مبین (open victory) کا لفظ استعمال ہوا ہے- گویا سورہ الفتح میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ اللہ کی نظر میں رسول اور اصحاب کے لئے زیادہ بڑی فتح تھی- یہ زیادہ بڑی فتح کیا تھی، یقیناً وہ کوئی ایسی چیز تھی، جو سیاسی فتح (political victory) کے علاوہ تھی-غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مبین مواقع دعوت کے فتح کے معنی میں تھی- فتح مکہ اگر سیاسی فتح تھی تو معاہدۂ حدیبیہ کے ذریعہ جو فتح حاصل ہوئی اس کو پر امن فتح (peaceful victory) کہاجاسکتاہے- معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ دونوں فریق اس کے پابند ہوگئے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی لڑائی نہیں کریں گے- معاہدہ حدیبیہ دراصل امن کا معاہدہ تھا:
Makkah was victory in terms of territory, Hudaybiyah was victory in terms of opportunity.
رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طورپر دعوت الی اللہ کا کام کرسکیں- دوسری فتوحات میں اگر سیاسی فتوحات حاصل ہوتی ہیں تو معاہدہ حدیبیہ نے یہ امکان کھول دیا کہ دعوت کے ذریعہ انسانوں کو فتح کیا جاسکے- گویا اللہ کی نظر میں ملک کی فتح سے زیادہ بڑی چیز انسان پرفتح حاصل کرنا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔