قالت قریشٌ للنبیِّ صلَّى اللہُ علیہِ وسلَّمَ : ادعُ لنا ربَّکَ أنْ یجعلَ لنا الصَّفا ذَہَبًا ونؤمنُ بکَ، قال : وتفعلون، قالوا : نعم، قال : فدعا فأتاہُ جبریلُ فقال : إنَّ ربَّک یَقرأُ علیک السلامَ ویقولُ : إن شئتَ أصبح لہم الصَّفا ذہبًا فمن کفر بعدَ ذلک منہم عذَّبْتہُ عذًابا لا أعذِّبہُ أحدًا من العالمین وإن شئتَ فتحتُ لہم بابَ التوبةِ والرحمةِ ،قال : بل بابُ التوبةِ والرحمةِ(مسند احمد: 2166)-قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے وہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنا دے، پھر ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے کہا: کیا تم ایساکرو گے، انھوں نے کہا کہ ہاں- پھر رسول اللہ نے دعا کی تو جبریل آپ کے پاس آئے اور کہاکہ آپ کے رب نے آپ کوسلام بھیجا ہے، اور یہ کہا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو وہ صفا پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنا دے گا، مگر اس کے بعد ان میں سے جو انکار کرے گا- اس کو میں ایسا عذاب دوں گا جو دنیا والوں میں کسی کو نہ دیاہوگا اور اگر آپ چاہیں تو میںان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں گا- آپ نے فرمایا کہ ہاں توبہ اور رحمت کا دروازہ-
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں پر فراوانی کے دروازے کھول دئے جائیں تو اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غفلت اور سرکشی پیداہوگی، وہ ایمان سے دور ہو کر مزید سزا کے مستحق بن جائیں گے- ایمان کے لئے اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر عجز کی نفسیات پیداہو- عجز کی نفسیات آدمی کو ایمان کی طرف لے جاتی ہے- اس کے برعکس، فراوانی (affluence)میں آدمی کے اندر غفلت اورسرکشی پیدا ہوتی ہے، جواس کو خدا سے مزید دور کردیتی ہے-حدیث کا مطلب یہ ہے اہلِ مکہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کریں، اس سے ان کے اندر اللہ کی طرف رجوع کی کیفیت پیدا ہوگی، ان کے اندر تلاش حق کی اسپرٹ بیدار ہوگی- وہ اپنے عجز کو دریافت کریں گے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سچائی کو قبول کرلیں گے- یہ صرف قریش کی بات نہیں بلکہ وہ تمام انسانوں کی بات ہے- ہدایت کا یہی اصول قریش کے لئے بھی تھا اور دوسرے تمام انسانوں کے لئے بھی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔