Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2015
Al-Risala March 2015

انسان کا مسئلہ

Urdu · 2 min read

انسان کا معاملہ کیا ہے، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بہترین خواہشات کے ساتھ پیداہوتا ہے، لیکن اِس دنیا میں وہ اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کرپاتا- انسان کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے— معیاری خواہشیں اور غیر معیاری تسکین:

Perfect desires, imperfect fulfillment.

خواہشیں (desires) اکتسابی نہیں ہیں، بلکہ وہ فطری ہیں- آدمی اِن خواہشوں کو پیدائشی طورپر لے کر اِس دنیا میں آتاہے- ہر خواہش کے پیچھے ایک احساس ہوتا ہے- یہ احساس استثنائی طورپر صرف انسان کے اندر پایا جاتا ہے- محظوظ ہونے کا احساس (sense of enjoyment) ہر انسان کو پیدائشی طورپر ملتاہے-

انسان کی شخصیت میں یہ ایک تضاد کا معاملہ ہے- یعنی انسان کے اندر خواہشیں لامحدود ہیں، لیکن دنیا میں ان خواہشوں کی تکمیل کا انتظام نہایت محدود ہے- انسانی شخصیت کے اس تضاد کو سمجھنا انسان کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرے- وہ وہی چاہے جو فطرت کے قانون کے مطابق اسے اس دنیا میں ملنے والا ہے- وہ اس چیز کے پیچھے نہ بھاگے جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو اس دنیا میں ملنے والا ہی نہیں- انسان کے بارے میں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر شخص کے لئے نہایت ضروری ہے- جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کئے بغیر زندگی کے میدان میں داخل ہوجائے، وہ صرف اپنے وقت اور اپنی توانائی کو ضائع کرے گا- وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے گا-

یہی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے- یہ زندگی کی جدوجہد کا آغاز ہے- اس سوال کا صحیح جواب وہی شخص پاسکتاہے، جو متعصبانہ فکر (biased thinking) سے آزاد ہو کر اس پر غور کرے- وہ اپنی خواہش کو الگ رکھتے ہوئے، اس کو جاننے کی کوشش کرے- اس معاملے میں غلطی کرنا، پوری زندگی کو غلط کردینے کے ہم معنی ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.