Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2015
Al-Risala March 2015

اسلام کا اقدام، دعوت

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میںشوال سنہ 5ھ میں احزاب کا واقعہ پیش آیا- اس موقع پر قریش کے سردار بارہ ہزا رکا لشکر لے کر آئے تھے کہ مدینہ پر حملہ کریں- مگر وہاں ایسے حالات پیش آئے کہ جنگ نہ ہوسکی اور قریش کا لشکر جنگ کے بغیر واپس چلا گیا- اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ایک تاریخی بات کہی ،وہ یہ کہ: الآن نغزوہم ولا یغزوننا، ونحن نسیر الیھم (صحیح البخاری: 4110) یعنی اب ہم ان سے غزوہ کریں گے، وہ ہم سے غزوہ نہیں کریں گے، اور ہم ان کی طرف جائیں گے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث میں غزوہ سے مراد جنگ نہیں ہے، بلکہ اقدام ہے جیساکہ نَسیرُ کے لفظ سے واضح ہوتا ہے- اِس کا مطلب یہ ہےکہ اب حالات میں ایسی تبدیلی آچکی ہے کہ اقدام فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ اب اقدام ہماری طرف سے ہوگا- جیساکہ تاریخی طورپر معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے بعد کوئی جنگ کا منصوبہ نہیں بنایا، بلکہ صرف پرامن دعوت کا منصوبہ بنایا- اِس لیے یہاں اقدام سے مراد دعوتی اقدام ہے، نہ کہ جنگی اقدام-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی اسلام کا ابدی اصول ہے- اسلام کا اقدامی عمل صرف دعوت ہے- اسلام کے تمام مقاصد صرف دعوت کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں- اسلام میں اگر جنگ پیش آتی ہے تو وہ صرف ناگزیر دفاع کے موقع پر استثنائی طور پر پیش آتی ہے- اسلام میں اس کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ اہلِ ایمان اپنی طرف سے کوئی جارحانہ جنگ شروع کردیں-

اسلام کا اصل نشانہ دعوت إلی اللہ ہے، اور دعوت إلی اللہ کا کام صرف پرامن طریقہ کار اور معتدل ماحول کے اندر انجام دیاجاسکتاہے- اسلام کا نشانہ افراد کے ذہن کو بدلنا ہے- اسلام کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ لڑ کر حکومت پر قبضہ کیاجائے- اسلام کا نشانہ لوگوں کو جنت تک پہنچانا ہے، نہ کہ کچھ اور-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content