پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میںشوال سنہ 5ھ میں احزاب کا واقعہ پیش آیا- اس موقع پر قریش کے سردار بارہ ہزا رکا لشکر لے کر آئے تھے کہ مدینہ پر حملہ کریں- مگر وہاں ایسے حالات پیش آئے کہ جنگ نہ ہوسکی اور قریش کا لشکر جنگ کے بغیر واپس چلا گیا- اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ایک تاریخی بات کہی ،وہ یہ کہ: الآن نغزوہم ولا یغزوننا، ونحن نسیر الیھم (صحیح البخاری: 4110) یعنی اب ہم ان سے غزوہ کریں گے، وہ ہم سے غزوہ نہیں کریں گے، اور ہم ان کی طرف جائیں گے-
اس حدیث میں غزوہ سے مراد جنگ نہیں ہے، بلکہ اقدام ہے جیساکہ نَسیرُ کے لفظ سے واضح ہوتا ہے- اِس کا مطلب یہ ہےکہ اب حالات میں ایسی تبدیلی آچکی ہے کہ اقدام فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ اب اقدام ہماری طرف سے ہوگا- جیساکہ تاریخی طورپر معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے بعد کوئی جنگ کا منصوبہ نہیں بنایا، بلکہ صرف پرامن دعوت کا منصوبہ بنایا- اِس لیے یہاں اقدام سے مراد دعوتی اقدام ہے، نہ کہ جنگی اقدام-
یہی اسلام کا ابدی اصول ہے- اسلام کا اقدامی عمل صرف دعوت ہے- اسلام کے تمام مقاصد صرف دعوت کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں- اسلام میں اگر جنگ پیش آتی ہے تو وہ صرف ناگزیر دفاع کے موقع پر استثنائی طور پر پیش آتی ہے- اسلام میں اس کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ اہلِ ایمان اپنی طرف سے کوئی جارحانہ جنگ شروع کردیں-
اسلام کا اصل نشانہ دعوت إلی اللہ ہے، اور دعوت إلی اللہ کا کام صرف پرامن طریقہ کار اور معتدل ماحول کے اندر انجام دیاجاسکتاہے- اسلام کا نشانہ افراد کے ذہن کو بدلنا ہے- اسلام کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ لڑ کر حکومت پر قبضہ کیاجائے- اسلام کا نشانہ لوگوں کو جنت تک پہنچانا ہے، نہ کہ کچھ اور-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔