فلسطین میں لمبی مدت سے عرب - اسرائیل جنگ ہورہی ہے- اِس دوران جو واقعات میڈیا میں آئے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ انگلش میڈیا میں ان الفاظ میں رپورٹ کیاگیاہے کہ ایک فلسطینی نوجوان عبد الرحمن نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اپنے باپ کا انتقام لینا ہے:
Twelve year old Abdul Rahman Al-Batish hasn’t stopped crying since he lost his father in the bombing of an apartment (in Gaza). “They are killers, and one day I will avenge my father”. ITV’s Middle East Correspondent reports him as saying.
انتقامی وار ہمیشہ چین وار(chain war) ہوتی ہے- اس قسم کی جنگ کبھی دوطرفہ بنیاد پر ختم نہیں ہوسکتی- اُس کو ختم کرنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اُس کو یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر ختم کردیا جائے-
یہ اصول قرآن کی ایک آیت میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا (3:103) یعنی اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اُس آگ سے بچا لیا-
قرآن کی اِس آیت میں قدیم عرب کے اُس قبائلی کلچر کا ذکر ہے جو انتقامی جنگ پر کھڑا ہوا تھا اور اُس کے نتیجہ میں ان کے درمیان چین وار(chain war) کی صورت حال قائم تھی- قرآن نے اِس سے نجات کا یہ فارمولابتایا کہ تم اللہ کے لئے یک طرفہ بنیاد پر اپنا تشدد ختم کردو- اِس کے بعد اپنے آپ فریقِ ثانی کا تشدد ختم ہوجائے گا، اور امن کی صورت حال قائم ہوجائے گی- ختمِ جنگ اور قیامِ امن کے لیے پہلے بھی یہی واحد قابلِ عمل فارمولا تھا، اور اب بھی اس مقصد کے لیے یہی واحد قابل عمل فارمولاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔