شیخ سعدی شیرازی (وفات: 1291ء)ایک فارسی شاعر تھے- انھوں نے اپنی کتاب گلستان میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے- ایک بار وہ ایک سفر میں تھے- اس دوران ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی- انھوں نے اس سے بات کرنا چاہا تو بات نہ ہوسکی- کیونکہ وہ ترکی کارہنے والا تھا- وہ ترکی کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا- اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب میں یہ شعر لکھا ہے:
زبانِ یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم
The language of my friend is Turkish and I don’t know Turkish.
موجودہ زمانہ میں کچھ اسی قسم کا معاملہ انسان اور قرآن کے درمیان ہوا ہے- انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے متلاشیٔ حق (seeker of Truth) ہے- وہ اپنے خالق کو دریافت کرنا چاہتا ہے مگر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خالق کی محفوظ کتاب عربی زبان میں ہے مگر میں عربی زبان نہیں جانتا:
The language of the divine book is Arabic and I don’t know Arabic.
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن کا ایسا ترجمہ کیا جائے جو بآسانی قابل فہم (easily understandable) ہو اور پھر اس کو تمام قوموں تک پہنچایا جائے-اس کام کی اہمیت کی بنا پر اس کو ترجیحی بنیاد (priority basis)پر کیا جاناچاہئے- موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کی یہ سب سے پہلی ذمہ داری ہے- کوئی بھی دوسرا کام اس کا بدل (alternative) نہیں بن سکتا-
ظالم کے خلاف جہاد، حکومت اسلامی کے ہنگامے، ملی کام (community work)، اسلامی قانون کا نفاذ جیسے کام جن میں موجودہ زمانہ کے مسلمان مشغول ہیں وہ سب کے سب اصل فریضہ کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔