اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے- مگر یہ بات درست نہیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں جس چیز کی کمی ہے، وہ فقدانِ قیادت نہیں ہے، بلکہ فقدانِ قبولیتِ قیادت ہے- یعنی مسلمانوں کے اندر خود فطری قانون کے مطابق، قیادت موجود ہے، مگر قیادت کو ماننے کا مزاج ان کے اندر موجود نہیں-اس معاملے پر غور کیجئے تو اُس کی جڑ یہ معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بعض اسباب سے، نہایت جذباتی ہوگئے ہیں- ایسے لوگوں کے درمیان صرف اُس قیادت کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے جو ہائی پروفائل (high profile) میں بولے، لو پروفائل (low profile) میں بولنے والے شخص کو اُن کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں ہوتی- اور تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ ہائی پروفائل میں بولنے والا شخص صرف اپنی قوم کی تباہی میں اضافہ کرتاہے-
امت کا یہ مزاج زوال کی بنا پر پیداہوا ہے- اس مزاج کی اصلاح صرف گہری منصوبہ بندی کے ذریعہ ممکن ہے- اس گہری منصوبہ بندی کا پہلا جز یہ ہے کہ امت کی اصلاح کا آغاز ہرگز اقدام سے نہ کیا جائے، بلکہ ذہنی تیاری سے کیا جائے- موجودہ زمانے میں اصلاح امت کے نام سے بہت سی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب ناکام ہوگئیں- اس کا سبب یہ ہے کہ ان تحریکوں نے اپنے کام کا آغاز اقدام سے کیا- اس قسم کا آغاز گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse)کا مصداق ہے- صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے امت کے افراد میں تعمیری شعور پیدا کیا جائے- یہ کام صرف خاموش جدوجہد کے ذریعہ ممکن ہے- شور وغل اور جلسہ جلوس کا طریقہ کبھی تعمیرشعور کے لئے مفید نہیں ہوسکتا-امت کی اصلاح کا کام جتنا زیادہ ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بات بھی ہے کہ اس اصلاح کے لئے صحیح طریقہ اختیار کیاجائے۔ اصلاح کا غیر فطری طریقہ صرف وقت اور طاقت کے ضیاع کے ہم معنی ہے- ایسا کرنے سے اصلاح امت کے کام میں صرف تاخیر ہوگی، اس کے ذریعہ مطلوب اصلاح ہونے والی نہیں- یہ فطرت کا قانون ہے اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔