قرآن میں ابلیس اور آدم کا قصہ سات بار بیان ہوا ہے- یہ تکرار (repetition) نہیں ہے- یہ اسلوبِ کلام کا معاملہ ہے، نہ کہ تکرارِ قصہ کا معاملہ-
غور کیجئے تو قرآن کے مذکورہ ساتوں مقام پر بظاہر آدم اور ابلیس کے قصے کی تکرار ہے، لیکن ہر جگہ سبق (lesson) الگ الگ نکالا گیا ہے- اس بنا پر اس کو تکرار نہیں کہا جائے گا، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ قرآن نے ایک قصے کے حوالے سے سات مختلف اسباق کی طرف اشارہ کیا ہے-
اس معاملے کی حقیقت یہ ہےکہ حوالہ (reference) کی تعدادمحدود ہوتی ہے، لیکن پہلو میں تنوع (diversity) کی بنا پر اس میں اسباق کی تعداد ہمیشہ بہت زیادہ ہوجاتی ہے- جہاں تک قابل حوالہ قصے کی بات ہے،وہ ایک معلومات کا مسئلہ ہے- مطالعے کے ذریعہ ہر آدمی یہ معلومات حاصل کرسکتا ہے- لیکن کسی ایک قصے سے متعدد سبق نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پائی جائے-
قرآن میں بار بار یہ کہاگیا ہے کہ تدبر کرو، تفکر کرو، توسم کرو، وغیرہ- کسی واقعے کے معلوماتی پہلو کو جاننے کے لئے تدبر اور تفکر کی ضرورت نہیں ہوتی- تدبر اور تفکر کا مقصد یہ ہے کہ واقعے کے متعدد پہلوؤں کا علم حاصل کیا جائے، واقعے کے اندر چھپے ہوئے مختلف اسباق (lessons)کو دریافت کیا جائے-
اسی دریافت (discovery) کے ذریعے ایک انسان تخلیقی انسان بنتا ہے،اسی دریافت کے ذریعے وہ ترقی پذیر شخصیت تیار ہوتی ہے، جس کا آغاز زمین سے ہوتا ہے، لیکن اپنے پھیلاؤ کے اعتبار سے وہ آسمان تک پہنچ جاتی ہے- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَاۗءِ (14:24)یعنی وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔