Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2015
Al-Risala March 2015

تجدید ِ دین

Urdu · 2 min read

ایک حدیث رسول مختلف کتابوں میں آئی ہے- ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إنَّ اللہَ یبعثُ لہذہ الأمةِ على رأسِ کلِّ مائةِ سنةٍ من یُجدِّدُ لہا دینَہا (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4291 ) یعنی بے شک اللہ تعالی ہر صدی کے سرے پر اس امت کے لئے ایک شخص کو اٹھائے گا جو اس کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا-

hadithQuotes a hadith

جدّد کا لفظی مطلب نیا کرنا (to renew) ہے- حدیث کے الفاظ کے مطابق نیا کرنے کا یہ عمل دین کی نسبت سے نہیں ہوتا بلکہ امت کی نسبت سے ہوتا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پرانے دین کی جگہ نیا دین لایا جائے- تجدید کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت جو کہ عقیدہ کے اعتبار سے بظاہر دین کو مان رہی ہے، مگر حقیقی عمل کے اعتبار سے اس کے اندر کمی واقع ہوگئی ہے- اس وقت اس کے لئے نئی توانائی (revitalization)کی کوشش کی جائے- یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو ہر امت میں اس کی بعد کی نسلوں کے لئے پیش آتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دین کی بنیاد متن (text) پر ہے- متن ہمیشہ ایک ہی رہتاہے- اس لئے متن میں کسی نئے عمل کی ضرورت نہیں- مگر امت کی بعد کی نسلیں ایک بدلے ہوئے زمانے میں پیدا ہوتی ہیں- اب ضرورت ہوتی ہے کہ اصل دین کی تبیین (interpretation) اس طرح کی جائے جو بعد کے لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرسکے- دوسرے الفاظ میں تجدید دین کا مطلب دین کی نئی تطبیق (reapplication) ہے- اس کا مقصد یہ ہے کہ دین کو بعد کے لوگوں کے لئے از سر نو قابل فہم (understandable) بنایا جائے- مثلاً بعد کے لوگ معرفت اور دعوت کے الفاظ بولیں گے- لیکن معرفت اور دعوت ان کی شعوری دریافت نہ ہوگی- اس لئے ان کی لغت میں معرفت اور دعوت کے الفاظ تو ہوں گے لیکن ان کی حقیقی زندگی اس سے خالی ہوگی- تجدید یہ ہے کہ اِن الفاظ کو ان کے لئے دوبارہ شعوری دریافت بنایا جائے- تجدید کا تعلق تطبیق ِ نو سے ہے، نہ کہ دین ِ نو سے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content