Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala March 2015
Al-Risala March 2015

عملِ مزید، جنتِ مزید

Urdu · 4 min read

قرآن کی سورہ نمبر 50 میں جنت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: لَہُمْ مَا یَشَاءُونَ فِیہَا وَلَدَیْنَا مَزِیدٌ ( 50:35) یعنی وہاں ان کے لئے وہ سب ہوگا جو وہ چاہیں، اور ہمارے پاس مزید ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کسی انسان کو اس کے عمل کے بقدر ملے گی(53:39)۔ مزید غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی دو قسمیں ہیں، عمل عام اور عمل خاص۔ قانونِ الٰہی کے مطابق عمل عام پر جنت عام ہے، اور عمل خاص پر جنت خاص۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عمل عام یہ ہے کہ آدمی ان معلوم احکام پر عمل کرے جو بظاہر قرآن و سنت میں لفظوں کی صورت میںبتا دیئے گئے ہیں۔ مثلا ایک حدیث کے مطابق، پانچ بنیادی احکام پر عمل کرنا(البخاری: 8)۔ جو آدمی اخلاصِ نیت کے ساتھ ان متعین احکام پر عمل کرے، اس کے لئے جنت ہے۔ یہ وہ جنت ہے، جس کے لئے ہم نے جنت عام کا لفظ استعمال کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جنت خاص ان لوگوں کے لئے ہے، جو موجودہ دنیا میں عمل خاص کا ثبوت دیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل خاص سے مراد وہ عمل ہے، جو اعلیٰ معرفت کا نتیجہ ہو،جو اعلیٰ معرفت کے تحت کسی انسان سے صادر ہو۔جنت دراصل معرفت کی قیمت ہے۔ عام معرفت پر عام جنت، اور خاص معرفت پر خاص جنت۔

اعلیٰ درجے کے عارفین وہ ہیں جو تدبر کے ذریعے اپنے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا کریں، جو تفکر کے ذریعے کائنات میںچھپی ہوئی آیاتِ الٰہیہ کو دریافت کریں، جو توسم کے ذریعے زندگی کے ہر تجربے کو اللہ کی معرفت میں ڈھال لیں، جو دعوت الی اللہ کو اس طرح دریافت کریں جو ان کو یک طرفہ طور پر ہر انسان کا خیر خواہ بنادے،جوتقویٰ کے اس درجے پر پہنچ جائیں جب کہ منفی واقعات کو بھی وہ مثبت واقعات میں تبدیل کر لیں۔یہی معرفتِ مزید ہے، اور معرفتِ مزید ہی کسی کو جنت مزید کا مستحق بنائے گی۔

عملِ مزید کیا ہے، اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس بن مالک، قال: کان عبد اللہ بن رواحة إذا لقی الرجل من أصحابہ، یقول: تعال نؤمن بربنا ساعة، فقال ذات یوم لرجل، فغضب الرجل، فجاء إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم، فقال: یا رسول اللہ، ألا ترى إلى ابن رواحة یرغب عن إیمانک إلى إیمان ساعة؟ فقال النبی صلى اللہ علیہ وسلم: یرحم اللہ ابن رواحة، إنہ یحب المجالس التی تتباہى بہا الملائکۃ (مسند احمد: 13796)۔یعنی انس بن مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن رواحہ کا طریقہ یہ تھا کہ کسی آدمی سے ان کی ملاقات ہوتی تو وہ کہتے؛ آؤ، ہم اپنے رب پر ایک ساعت کے لئے ایمان لائیں، انھوں نے ایک دن یہی بات ایک آدمی سے کہی۔ وہ آدمی یہ سن کر غضب ناک ہوگیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا اے اللہ کے رسول، کیا آپ نے ابن رواحہ کو نہیں دیکھاوہ آپ پر ایمان کے بعد ایک ساعت کے ایمان کی ترغیب دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاکہ ابن رواحہ پر اللہ رحم کرے ، وہ ایسی مجلسوں کو محبوب رکھتے ہیں جس پر فرشتے رشک کرتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ تقابلی انداز میں بتاتا ہے کہ عمل عام کیا ہے اور عمل مزید کیا ہے۔عمل عام یہ ہے کہ آدمی روٹین (routine) کے درجے میں معلوم احکام پر عمل کرے۔ مثلا روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا، اور سال میں ایک مہینہ کا روزہ رکھنا۔ اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی میں ان معلوم احکام کی پابندی کرتے رہنا۔ایسا شخص بھی بشرطِ نیت آخرت کی جنت میں جگہ پائے گا، مگر یہ جنت اس کے لئے جنتِ عام ہوگی۔

اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے جو اللہ کی کتاب اور اللہ کی آیات(signs of God in nature) میں غور کرے، وہ تدبر اور تفکر کے ذریعے معرفت خداوندی کے نئے نئے پہلو دریافت کرے، وہ اپنے سادہ ایمان کو تخلیقی ایمان (creative faith) بنائے، وہ اپنے آپ کو خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا کرے۔ ایسا شخص گویا اپنی کوشش سے عمل مزید کر رہا ہے۔اللہ تعالی ایسے انسان کے عمل مزید کی قدر دانی اس طرح فرمائے گا کہ اس کو جنت مزید (additional Paradise) یا خصوصی جنت میں داخلہ عطا کرےگا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content