محمد قطب (برادر سید قطب) مصر کے مشہور ادیب تھے- 4 اپریل 2014 کو ان کی وفات ہوئی، جب کہ ان کی عمر 95 سال تھی-ان کی ایک مشہور کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: الجاہلیة فی القرن العشرین (جاہلیت بیسویں صدی میں)- مصنف نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مغربی تہذیب، بیسویں صدی کی جاہلیت ہے- یہ کتاب علمی اسلوب میں نہیں، بلکہ ادبی اسلوب میں ہے-
یہ کتاب علامتی طورپر بتاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں تمام دنیا کے مسلم اہل علم کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کے بارے میں کیا ہے- بلا استثنا تمام مسلمان، عرب بھی اور نان عرب بھی مغربی تہذیب کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- وہ اس کو نہ صرف مادی تہذیب بلکہ مسلم دشمن تہذیب سمجھتے ہیں- مغربی تہذیب کے بارے میں یہ منفی تصور سرتا سر غلط فہمی پر مبنی ہے- یہ اسی طرح بے بنیاد ہے، جس طرح بہت سے سیکولر اہل علم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک تشدد پسند مذہب ہے- حالانکہ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے-
اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک موافق اسلام تہذیب ہے- یہ اسی تائید ِ دین کا عملی ظہور ہے جس کی پیشین گوئی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی (ملاحظہ ہو، صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062)
موجودہ زمانے میں ضرورت تھی کہ مسلم اہلِ علم ایسی کتاب لکھیں، جس کا ٹائٹل ہو: الاسلام فی القرن العشرین - لیکن برعکس طورپر وہ ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جن کا ٹائٹل الجاہلیة فی القرن العشرین یا اس کے ہم معنی ہوتا ہے- دور جدید سے مسلم اہل علم کی یہی بے خبری موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے- آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو دورِ جدید کے بارے میں حدیث کے الفاظ میں بصیر زمانہ (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 361) بنایا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔