عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے- بے وضو آدمی قرآن کو نہیں چھوسکتا- یہ بلا شبہہ ایک بے بنیاد مسئلہ ہے- یہ مسئلہ قرآن میں مذکور نہیں، وہ تمام تر بعد کے زمانے میں مدون ہونے والی فقہ کی پیدا وار ہے-اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا- یہ سب اپنے پچھلے مذہب کے ذہن (mindset) کو لے کر اسلام میں داخل ہوئے- ان میںسے بہت سے لوگوں نے عربی زبان سیکھی، اور وہ عالم اور امام بن گئے-یہی وہ نو مسلم علماء ہیں، جنھوں نے فقہ کی تدوین کی، انھوں نے اپنے قدیم مذہبی مزاج کے مطابق بہت سے مسائل غیر شعوری طورپر اسلام میں داخل کردئے، جو کہ دورِ صحابہ میں پائے نہیں جاتے تھے- مزید یہ کہ انھوں نے ان خود ساختہ فقہی مسائل کی تائید کے لیے قرآن کی آیتوں کی غلط تاویل کی- مثلاً شاتم رسول کو قتل کرنا، قرآن سے ثابت نہیں، لیکن فقہا نے غلط تاویلات کے ذریعہ اس کو اسلام میں شامل کردیا اور یہ لکھ دیا کہ یُقتل حدّا (ایسا شخص بطور حد قتل کیا جائے گا)-
انھیں فقہی مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ وضو کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں- مگر یہ انھیں نو مسلم فقہا کا وضع کردہ مسئلہ ہے-اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں- اگر یہ مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہوتا تو یقینی طورپر قرآن میں مذکور ہوتا، مگر قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں - یہ حضرات اِس معاملہ میں قرآن کی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں- وہ آیت یہ ہے:لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ ( 56:79)- اس آیت میں ایک خبر کا ذکر ہے، نہ کہ کسی حکم کا- اور اس خبر کا تعلق بھی فرشتوںسے ہے، انسان سے نہیں- اسی غلط مسئلے نے ماضی میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا دروازہ بند کردیا- مزید یہ کہ اِس آیت میں الاَّ المُطَہَّرُون کا لفظ ہے، نہ کہ الاالمُتَوَضِّئُون، یعنی طاہر لوگ اس کو چھوتے ہیں، نہ کہ باوضو لوگ- حقیقت یہ ہے کہ صحیح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، جو کہ باعتبار تخلیق ہمہ وقت طاہر ہوتے ہیں، نہ کہ وضو کرکے طاہر بننے والا انسان-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔