تمام فلسفیوں کا کیس ایک تھا، وہ ہے حقیقت کی تلاش- تمام فلسفیوں نےیہ چاہا کہ وہ سچائی کو علم کے راستے سے جانیں، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ہر فلسفی اپنی اس تلاش میں ناکام رہا- برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل کا معاملہ بھی یہی تھا- تمام عمر مطالعہ کرنے کے باوجود وہ سچائی کو دریافت کرنے میں ناکام رہا- دوسرے فلسفیوں کا کیس بھی یہی ہے- مگر دوسرے فلسفیوں نے اس حقیقت کا بہت کم اعتراف کیا، جب کہ برٹرینڈ رسل نے کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے - رسل کا یہ اعتراف اس کی خود نوشت سوانح عمری میں دیکھا جاسکتا ہے-
اس نے لکھا ہے : ’’جب میں اپنے زندگی کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی ضائع ہوگئی- میں ایسی باتوں کو جاننے کی کوشش کرتا رہا، جن کو جاننا ممکن ہی نہ تھا- میری سرگرمیاں بطور عادت جاری رہیں- میں بھلاوے میں پڑا رہا- جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو میں اس کو چھپا نہیں پاتا کہ میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ نیا مقصدِ حیات کیا ہے، جس میں میں اپنی بقیہ عمر کو وقف کروں- میں اپنے آپ کو کامل تنہائی میں محسوس کرتا ہوں، جذباتی اعتبار سے بھی اور مابعد الطبیعیاتی اعتبار سے بھی، جس سے میں کوئی مخرج نہیں پاتا‘‘:
“When I survey my life, it seems to me to be a useless one, devoted to impossible ideals. My activities continue from force of habit, and in the company of others, I forget the despair which underlies my daily pursuits and pleasure. But when I am alone and idle, I cannot conceal for myself that my life has no purpose, and that I know of no new purpose to which to devote my remaining years. I find myself involved in a vast mist of solitude both emotional and metaphysical, from which I can find no issue.”
(p. 395. The Autobiography of Bertrand Russell, 1950)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔