ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من أصبح منکم آمنًا فی سربہ ، معافىً فی جسدہ ، عندہ قوت یومہ ، فکأنما حِیْزَت لہ الدنیا(الترمذی، رقم الحدیث: 2346) یعنی تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ امن کی حالت میں ہو، اور اس کو جسمانی صحت حاصل ہو، اس کے پاس اُس دن کا رزق ہو، تو گویا کہ اس کو ساری دنیا حاصل ہوگئی-
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مادی اعتبار سے قناعت (contentment) کا طریقہ اختیار کرو، تاکہ تم دین کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ادا کرسکو- یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص دنیا کے معاملے میں بقدر ضرورت پر اکتفا کرے گا، وہی آخرت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگا-
میرے پاس ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا، انھوں نے کہا کہ میں بہت مشکل میں ہوں، میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے- میں نے کہا کہ آپ کو کوئی مشکل نہیں- اللہ نے آپ کو مشکلات سے بچا رکھا ہے- حقیقت یہ ہے کہ مشکل ہمیشہ آدمی کی اپنی سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے- اگر آپ اپنی سوچ کو درست کرلیں تو آپ کے لئے کوئی مشکل مشکل نہ رہے گی-میں نے کہا کہ آپ نے دور سے مجھ کو ٹیلی فون کیا ہے، یہ کوئی سادہ بات نہیں- یہ اللہ کی ایک عظیم نعمت کا واقعہ ہے- آپ کو حافظہ (memory) کی نعمت حاصل تھی- اس لئے یہ ممکن ہوا کہ آپ میرے ٹیلی فون نمبر کو یاد کریں، پھر آپ کے پاس ٹیلی فون موجود تھا، جو اتنی بڑی نعمت ہےکہ پچھلی تاریخ میں کسی بادشاہ کو بھی یہ نعمت حاصل نہ تھی، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کے ذریعہ میرا نمبر ڈائل کیا- اگر آپ سوچیں تو یہ ایک معجزاتی واقعہ تھا، پھر آپ ہزار میل دور سے بول رہے ہیں اور میں اس کو سن کر عین اسی وقت قابل فہم زبان میں اس کا جواب دے رہا ہوں- یہ سارا معاملہ ایک عظیم نعمت کا معاملہ ہے- اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جو آج بھی آپ کو پوری طرح حاصل ہیں- اگر آپ اللہ کے ان عطیات کو یادکریں تو آپ اپنے آپ کو اتنا ہلکا محسوس کریں گے، جیسے کہ آپ مشکلوں میں نہیں جی رہے ہیں، بلکہ آسانیوں میں جی رہے ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔