اسلام میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے- یہاں تک کہ صبر پر بے حساب انعام کا وعدہ کیاگیا ہے:اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا- اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیاہے کہ جنت ان کو ملے گی جنھوںنے دنیا کی زندگی میں صبر کیا (76:12) -
صبر کا ایک فائدہ وہ ہے جو انسان کو آخرت میں ملے گا- لیکن صبر کا فائدہ اسی موجودہ دنیا میں شروع ہوجاتاہے- صبر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آدمی مایوسی کی نفسیات سے بچ جاتا ہے- مایوسی کی نفسیات میں جینے والے انسان کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بے یقینی (uncertainty)کی نفسیات میں جینے لگتاہے- ایسا آدمی کبھی حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کا منصوبہ نہیں بنا سکتا- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی اپنی زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کرپاتا-
صبر کا معاملہ اس کے برعکس ہے- صبر آدمی کو اِس نفسیات سے بچا لیتاہے کہ وہ کھوئے ہوئے کو نہ بھلائے- ایسا آدمی کامل معنوں میں یقینیت (certainty) میں جینے لگتا ہے- وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے- اور اس کے نتیجہ میں بڑی کامیابی حاصل کرے-
یقین (conviction) انسان کی سب سے بڑی صفت ہے- کوئی بڑا کام وہی شخص کرسکتاہے جو یقین میں جیتاہو- قرآن میں صبرکو اتنی زیادہ اہمیت اسی لئے دی گئی ہے کہ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے یقینی کے اسباب کو نظر انداز کرکے صرف ان چیزوں پر فوکس کرے جو آدمی کے اندر یقین پیداکرنے والی ہیں- موجودہ دنیا میں ہر لمحہ ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو آدمی کے ذہن کو بھٹکا کربے یقینی کی طرف لے جاتے ہیں- صبر آدمی کو اس بھٹکاؤ سے بچاتا ہے- وہ آدمی کو ہر حال میں یقین پر قائم رکھتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔