Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2015
Al-Risala March 2015

تدبر کا میدان

Urdu · 2 min read

ایک مضمون قرآن کی دو آیتوں میں بیان کیا گیاہے- ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ۭ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (31:27) یعنی اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ، روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں-بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں کلمات اللہ سے مراد اللہ کے تخلیقی کرشمے (creative marvels) ہیں- یہ تخلیقی کرشمے بے شمار ہیں- ان کی دریافت صرف عقلی غور وفکر کے ذریعہ ہوتی ہے- اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن کی اس آیت میں تدبر وتفکر کا میدان بتایا گیا ہے-کلمات اللہ میں تدبر کا میدان اتنا زیادہ وسیع ہےکہ وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں-

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لئے اتاری تاکہ لوگ اس کی آیتوںپر غور کریں(38:29)- یہاں تدبر سے مراد فنی تدبر نہیں ہے، بلکہ عقلی تدبر ہے- عقلی تدبر ایک بے حد وسیع عمل ہے- اس کا دائرہ قرآن سے لے کر ساری کائنات تک پھیلا ہوا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ قرآن میں حقائق کی تفصیل نہیں بتائی گئی- قرآن میں صرف اشارات بتائے گئے ہیں- تدبر سے مراد قرآن کے اشارات کی روشنی میں تمام موجودات پر تدبر ہے- یہی تدبر معرفت کا خزانہ ہے- اس تدبر سے قرآن کے خدا کا کلام ہونے پر یقین بڑھتا ہے، معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، تخلیق کی حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، چھپی ہوئی حقیقتوں کی دریافت ہوتی ہے- تدبر کا یہی عمل ہے جس کے ذریعہ وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہاگیاہے- تدبر کا معیار قرآن کے مطابق تذکر(admonition) ہے، یعنی اپنے لئے نصیحت حاصل کرنا- اپنے ذہنی وروحانی ارتقا کا سامان کرنا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content