ایک مضمون قرآن کی دو آیتوں میں بیان کیا گیاہے- ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ۭ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (31:27) یعنی اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ، روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں-بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے-
قرآن کی اِس آیت میں کلمات اللہ سے مراد اللہ کے تخلیقی کرشمے (creative marvels) ہیں- یہ تخلیقی کرشمے بے شمار ہیں- ان کی دریافت صرف عقلی غور وفکر کے ذریعہ ہوتی ہے- اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن کی اس آیت میں تدبر وتفکر کا میدان بتایا گیا ہے-کلمات اللہ میں تدبر کا میدان اتنا زیادہ وسیع ہےکہ وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لئے اتاری تاکہ لوگ اس کی آیتوںپر غور کریں(38:29)- یہاں تدبر سے مراد فنی تدبر نہیں ہے، بلکہ عقلی تدبر ہے- عقلی تدبر ایک بے حد وسیع عمل ہے- اس کا دائرہ قرآن سے لے کر ساری کائنات تک پھیلا ہوا ہے-
اصل یہ ہے کہ قرآن میں حقائق کی تفصیل نہیں بتائی گئی- قرآن میں صرف اشارات بتائے گئے ہیں- تدبر سے مراد قرآن کے اشارات کی روشنی میں تمام موجودات پر تدبر ہے- یہی تدبر معرفت کا خزانہ ہے- اس تدبر سے قرآن کے خدا کا کلام ہونے پر یقین بڑھتا ہے، معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، تخلیق کی حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، چھپی ہوئی حقیقتوں کی دریافت ہوتی ہے- تدبر کا یہی عمل ہے جس کے ذریعہ وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہاگیاہے- تدبر کا معیار قرآن کے مطابق تذکر(admonition) ہے، یعنی اپنے لئے نصیحت حاصل کرنا- اپنے ذہنی وروحانی ارتقا کا سامان کرنا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔