معجزہ کیا ہے- معجزہ دراصل استثنا (exception) کا دوسرا نام ہے- قرآن ایک استثنائی کتاب (exceptional book) ہے- قرآن کی یہی منفرد حیثیت اس بات کا ثبوت ہےکہ قرآن خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ہے- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیاہے: قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا(17:88)یعنی کہو کہ اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی وہ اس کے جیسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مد دگار بن جائیں ۔
کسی کتاب کا استثنائی کتاب ہونا، اس بات کا ثبوت ہےکہ وہ خدا کی طرف سےہے- کیونکہ یہ صرف خدا کی صفت ہے کہ وہ کسی کتاب کو استثنائی کتاب بنادے- انسان ایک محدود ہستی ہے اور محدود ہستی کسی استثنائی کتاب کو وجود میں نہیں لاسکتی- استثنائی کتاب کو وجود میں لانے کے لئے ایک لامحدود ہستی درکار تھی- اور اس لامحدود صفت کا حامل صرف خدا ہے، کوئی دوسرا نہیں-
البتہ یہ ممکن ہے کہ خدا اپنی مصلحت کی بنا پر کسی انسان کی مدد کرے، اور اس کو توفیق دے کہ وہ ایسی کتاب تیار کرے جو دوسری انسانی کتابوں کے مقابلہ میں ایک استثنائی کتاب (exceptional book) کی حیثیت رکھتی ہو- جس کے مثل کتاب تیار کرنے پر کوئی انسان قادر نہ ہو- اگر ایسا ہوتو اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بھی ایک خدائی معاملہ ہوگا، نہ کہ معروف معنی میں ایک انسانی معاملہ-
اس دنیا میں اللہ تعالی نے استثنا (exception) کو ایک پہچان بنا دیا ہے- یہ فطرت کا ایک طریقہ ہے- آدمی کو چاہئےکہ جہاں وہ کوئی استثنا دیکھے، وہاں وہ اس پر گہرائی کے ساتھ غور کرے- جو شخص ایسا کرے، وہ یقینا وہاں ایک بڑی چیز کو دریافت کرلے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔