ایک حدیث ِ رسول عمر بن خطاب کے حوالے سے ان الفاظ میں آئی ہے: یا عمر، فواللہ، إن لقیک الشیطان بفَجّ قط، إلا أخذ فَجًّا غیر فجِّک (مسند أحمد، رقم الحدیث: 1624) یعنی اے عمر، خدا کی قسم، شیطان اگر کبھی تمھارے راستے میں آتاہے، تو وہ ہمیشہ تمھارے راستے کے سوا ایک اور راستہ اختیار کرلیتاہے-اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ ایک شخص کی فضیلت کے طورپر نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اصول کے بیان کے طورپر ہے - ایک شخص کا نام اُس میں بطور علامت ہے، نہ کہ بطور فضیلت-
اصل یہ ہے کہ شیطان سے حفاظت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening) کتنی زیادہ آئی ہے- اِس حدیث میں حضرت عمر کا نام ایک علامتی مثال کے طورپر ہے- حضرت عمر کا معاملہ یہ تھاکہ ان کے اندر کامل درجہ میں تواضع (modesty) پائی جاتی تھی- وہ علم کے بہت زیادہ حریص تھے- وہ اپنی غلطی کے اعتراف میں ایک لمحہ کی دیر نہیں کرتے تھے- ان صفات نے حضرت عمر کو ایک بے حد حساس انسان بنادیا تھا- ان کی یہ حساسیت اپنی ذات کے بارے میں نہ تھی، بلکہ حق کے بارے میں تھی- کسی امر حق کو پہچاننے میں وہ ایک لمحے کی تاخیر کا تحمل نہیں کرسکتے تھے-
ان صفات کا نتیجہ یہ تھا کہ حضرت عمر قرآن کی اِس آیت کا کامل مصداق بن گئے تھے: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُبْصِرُوْنَ ( 7:201) یعنی جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جب شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھوجاتا ہےتو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں- اور پھر اسی وقت ان کو سمجھ آجاتی ہے-حدیث میں شیطان کے راستہ بدلنے کی بات دراصل ایک تمثیلی اسلوب ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا انسان اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسہ کا تجزیہ کرے اور اس طرح وہ اس سے متاثر نہ ہو- ایسے آدمی کی ذہنی بیداری اُس کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھنے کی ضامن بن جاتی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔