← Al-Risala March 2015Al-Risala March 2015
اسلامی تربیت
Urdu · 6 min read
الرسالہ مشن کے تحت انڈیا کے ایک شہر میں ایک اجتماع کیا گیا۔ یہ اجتماع تربیتی مقصد کے لئے کیا گیا تھا۔اجتماع کے بعد الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ ہم اجتماع میں تربیت کے لئے شریک ہوئے تھے، مگر یہاں تربیت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔مجھ کو اس اجتماع سے کوئی تربیتی فائدہ نہیں ملا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ تبصرہ ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے زمانے میں تربیت اور تربیتی کیمپ کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا۔ اس سے لوگوں کے ذہن میں تربیت کا ایک روایتی ماڈل (traditional model) بن گیا۔لوگ اسی کو تربیتی کام سمجھنے لگے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا یہ روایتی ماڈل موجودہ زمانے میں ایک غیر متعلق ماڈل (irrelevant model)بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں تربیت کے نام پر سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن یہ تربیتی سرگرمیاں عملاً بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔
تربیت کا روایتی تصور مبنی بر فارم تصور ہے۔ اس کے برعکس، الرسالہ مشن میں تربیت کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ مبنی بر اسپرٹ تصور ہے۔مبنی بر اسپرٹ تربیت ہی کو ہم قرآن کا طریقِ تربیت سمجھتے ہیں۔ یہ طریقہ نظری اعتبار سے بھی درست ہے، اور عملی تجربہ کے اعتبار سے بھی یہی طریقہ مفید ثابت ہوا ہے۔
مذکورہ تربیتی اجتماع میں جو باتیں کہی گئی تھیں، ان میں سے دو باتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ الرسالہ مشن میں تربیت کا جو نہج (method) اختیار کیا گیا، وہ کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں بظاہر تربیت کے نام سے نہیں کہی گئی تھیں، لیکن عملا اس کا تعلق تربیت ہی سے تھا۔حقیقت یہ ہے کہ تربیت دراصل سوچ کا نام ہے۔
1 - مذکورہ اجتماع میں ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ حق کا داعی وہ ہے جو اپنے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا کرے۔وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے اپنی معرفت کو بڑھائے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے سوال کا جواب معلوم کرے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے دعوت کا پروگرام بنائے۔ دعوت کا کام کوئی روٹین کا کام نہیں ہے، دعوت کا کام ایک تخلیقی کام ہے۔دعوت کا کام مؤثر طور پر وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کی صلاحیت موجود ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 - اجتماع کے موقع پر دوسری بات وہ تھی جو قرآن کی ایک آیت کو لے کرکہی گئی۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)یعنی ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بتایا گیا کہ اس آیت کے دو حصے ہیں۔ ایک، وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ، اور دوسرا، ویکون الدین کلہ للہ ۔ نحوی اعتبار سے پہلا حصہ امر کے صیغے میں ہے، اور دوسرا حصہ خبر کے صیغے میں ۔ یعنی فتنہ کو ختم کرنے کے لئے تو اہل ایمان کو لڑنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو، دین کا اللہ کے لئے ہوجانا، اپنے آپ وقوع میں آئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب فتنہ کا دور ختم ہوجائے تو اس کے بعد وہ وقت آجاتا ہے جب کہ پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر بتایا گیا کہ قرآن کی اس آیت میں دراصل ایک دور کے خاتمہ اور دوسرے دور کے آغاز کی بات کہی گئی ہے۔ آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی تشدد (religious persecution) کے معنی میں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم تاریخ میں مذہبی تشدد کا جو کلچر قائم ہوا، وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھا۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ مذہب کے معاملے میں انسان کوآزادانہ اختیار (free choice) حاصل ہو۔ مگر قدیم زمانے میں مذہبی تشدد کے کلچر نے یہ کیا کہ انسان کے لئے ایک ہی چوائس کا امکان باقی رہا، یعنی غالب کلچر کا چوائس۔یہ حالت خالق کے نقشے کے مطابق نہ تھی اس لئےاہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ مذہبی تشدد کے دور کو ختم کر دو تاکہ تخلیق کے مطابق فطری حالت قائم ہو جائے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق رسول اور اصحابِ رسول کے بعد تاریخ میں جو دور آیا ہے، وہ مواقع کا دور (age of opportunities) ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ منفی سوچ کو یکسر ختم کردیں۔ اب اہل ایمان کے لئے یہ جواز باقی نہیں رہاکہ کسی کواپنا دشمن سمجھ لیں، اورپھر اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا معاملہ کریں۔ اب اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ زمانے کی اسپرٹ کو سمجھیں، وہ مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے پر امن طور پر اللہ کا پیغام سارے اہل عالم تک پہنچادیں۔ تربیت اصلاسوچ کی تربیت کا نام ہے، نہ کہ مسائل بتانے کا نام۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تربیت کا جو طریقہ عام طور پر رائج ہے، اس میں یہ ہوتا ہے کہ مربی (trainer) لوگوں سے اس طرح کی باتیں کہتا ہے کہ آپ اچھے طریقے کو اپنی عادت میں شامل کیجئے، آپ تہجد کی عادت ڈالئے، آپ الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہنے کی عادت ڈالئے، آپ ہر کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کی عادت ڈالئے، وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں تربیت کی تصغیر (underestimation) ہیں۔ تربیت دراصل ذہن سازی کا نام ہے، نہ کہ عادت سازی کا نام۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
فطرت کے اصول کے مطابق آدمی جو کام بھی کرتا ہے، وہ اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لئے حقیقی تربیت یہ ہے کہ آدمی کے طرزِ فکر (art of thinking) کو درست کیا جائے، آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ صحیح انداز میں سوچے، وہ صحیح انداز میں چیزوں کا تجزیہ کرے، وہ اپنے آپ کو متعصبانہ طرزِ فکر سے بچائے، اور موضوعی اندازِ فکر (objective thinking) کے مطابق چیزوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔مثلا، یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ سنی ہوئی باتوں کو مان لیتے ہیں، اور اس کو دہرانے لگتے ہیں، یہ طریقہ غلط ہے۔ صحیح تربیت وہ ہے جو اس معاملے میں لوگوں کو باشعور بنائے۔ اسی طرح عام طور پر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ تنقید اور تنقیص کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ نہایت آسانی سے کسی کے بارے میں منفی رائے زنی کرنے لگتے ہیں۔اس معاملے میں تربیت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر تنقید کریں۔ جس معاملے میں ان کے پاس ثابت شدہ مواد موجود نہ ہو، اس معاملے میں وہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔
تربیت اس کا نام نہیں ہے کہ لوگوں کوصحیح اور غلط (dos and don’ts) کی زبان میں کچھ مسائل بتا دیئے جائیں۔ تربیت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بات کو اس طرح مدلل انداز میں بیان کیا جائے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ جس کو سن کر مخاطب سوچنے پر مجبور ہوجائے۔تربیت خود فکری (self thinking) کا نام ہے۔تربیت کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنا مربی خود بن جائے، وہ اپنا محاسبہ آپ کرنے لگے۔