پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 ء میں ہوئی۔ اس کے بعد ابوبکر صدیق پہلے خلیفہ منتخب کئے گئے۔ آپ کی خلافت کی مدت تقریبا ڈھائی سال تھی۔آپ کی خلافت کے زمانے میں اسلام کے لئے ایک سنگین مسئلہ پیدا ہوا۔ اس وقت خلیفۂ اول نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا، أینقص الدین وأنا حی (مشکاۃ المصابیح : 6034) یعنی کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ صدیق اسپرٹ ہے۔جب دین کے لئے کوئی سنگین مسئلہ پیدا ہو تو سچا مومن تڑپ اٹھتا ہے۔ اللہ کے بھروسہ پر وہ اکیلا ہی دین کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے۔ایسا ہی واقعہ اکیسویں صدی میں اسلام کے لئے پیدا ہوا ہے، اور دوبارہ ضرورت پیش آگئی ہے کہ کچھ اہل ایمان صدیق اسپرٹ کے ساتھ دین کے لئے کھڑے ہو جائیں۔
موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دین کی تصویر کو بگاڑ دیا گیا ہے۔اللہ کا دین مکمل طور پر دین امن (religion of peace) ہے، لیکن خود مسلمانوں کے غلط عمل کے ذریعے اس کو دین تشدد (religion of violence) بنادیا گیا ہے۔ یہ صورتِ حال ایسی ہے جس پر ہر صاحبِ ایمان تڑپ اٹھے، ہر صاحبِ ایمان خدا کے دین کو دوبارہ امن کا دین بنانے کے لئے کامل طور پر سرگرم ہوجائے۔ اس مقصد کے لئے قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں لوگوں تک پہنچانا ہے۔عالمی زبانوں میںاسلام کا پر امن پیغام ہر طرف فلڈ (flood) کر دینا ہے۔یہاں تک کہ ہر عورت اور ہر مردیہ جان لے کہ خدا کا دین امن کا دین ہے، تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
قرآن کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ اللہ، رب العالمین ہے، وہ رحمۃ للعالمین ہے۔ اللہ کا اور اللہ کے دین کا کوئی تعلق نفرت و تشدد سے نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سچے اہل ایمان پکار اٹھیں ، اور یہ کہیں کہ کیا اللہ کے دین کی تصویر پر تشدد دین کی بنادی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ یہی صدیق اسپرٹ ہے، اور یہی آج کا سب سے بڑا مطلوب کام۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔