خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں اُس فرقے کا ظہور ہوا جس کو خوارج کہا جاتا ہے۔ خوارج دراصل غلو (extremism) کا شکار تھے۔ وہ ہرگناہ پر لوگوں کو کافر قرار دینے لگے (الذین یکفّرون بکل ذنب)۔ اس کے رد عمل میں علماء کے درمیان اس پر بہت زیادہ بحثیں ہوئیں، آخر کار اس دور کے علما نے اس پر اتفاق کر لیا کہ جو شخص قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ امام ابو جعفر الطحاوی (وفات: 321ھ) نے اپنے زمانے کے علما کا موقف بیان کر تے ہوئے لکھا ہے کہ : ولا نکفّرأحداً من أہل القبلة بذنب ، ما لم یستحلّہ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ : 1/296)۔ یعنی ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر کسی گناہ کے ارتکاب پر نہیں کرتے، جب تک وہ اس کو حلال نہ قرار دے۔علما کے اس متفقہ موقف پراب ہزار سال گزرچکے ہیں، مگر ابھی تک تکفیر کا ہنگامہ بند نہیں ہوا۔ تکفیر کا غیر اسلامی طریقہ اس کے بعد بھی امت کے درمیا ن جاری ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس معاملےمیں علما نے جو موقف اختیار کیا، وہ موقف بجائے خود صحیح نہ تھا۔ انھوں نے تکفیر عام کو ناجائز بتایا، مگر اسی کے ساتھ انھوںنے تکفیر مشروط کوجائز قرار دے دیا۔ یہ موقف بجائے خود غلط تھا اس لئے وہ امت میں تکفیر کا دروازہ بند نہ کر سکا۔صحیح بات یہ تھی کہ علما متفقہ طور پر یہ اعلان کرتے کہ تکفیر کا طریقہ اصلاً ہی ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ کسی عالم یا مفتی کو شرعی طور پر یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔کافر قرار دینے کا طریقہ اصحابِ رسول کے درمیان موجود نہ تھا۔ وہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر رائج ہوا۔علما کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ متفقہ طور پر یہ اعلان کریں کہ تکفیر کا طریقہ بدعت کا طریقہ ہے۔ اہل ایمان کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کے خیر خواہ بنیں، وہ تکفیر کے بجائے تبلیغ کا طریقہ اختیار کریں۔امتِ مسلمہ کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ تمام انسانوںکو اپنا مدعوسمجھے، وہ لوگوں کے رویہ پر حکم لگانے کے بجائےان کو اللہ کا پیغام پہنچائے۔ امتِ مسلمہ کے عمل کی منصوبہ بندی مبنی بر تبلیغ ہونا چاہئے، نہ کہ مبنی بر تکفیر۔ تکفیر اللہ کا کام ہے، تکفیر ہرگز انسان کا کام نہیں۔اگر تبلیغ مؤثر ثابت نہ ہو تو اس کے بعد مومن کا کام یہ ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئےایسے لوگوں کے معاملے کو اللہ کے حوالےکردے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔