نومبر 2012 میں امریکا کا 57 واں صدارتی الیکشن ہوا- اِس الیکشن میں براک اوباما دوبارہ چار سال کے لیے امریکا کے صدر منتخب ہوئے- براک اوباما کو 6 نومبر 2012 کو جب پہلی بار اپنی جیت کی خبر ملی تو انھوں نے اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ پر یہ الفاظ لکھے— چار اور سال:
Four more years!
اِس بات کا تعلق صرف صدر امریکا سے نہیں، وہ فطرت کا ایک قانون ہے- ہر آدمی کی زندگی میں یہ تجربہ پیش آتا ہے کہ اُس کو کام کا ایک ’’مزید وقت‘‘ حاصل ہوتا ہے- یہ مزید وقت آدمی کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ پچھلے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے عمل کی نئی، زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرے- جو کچھ وہ گزشتہ کل نہ پاسکا تھا، اس کو وہ آج پانے کی کوشش کرے-
یہ موقع چار سال یا چار مہینہ یا چار دن کے لیے بھی ہوسکتا ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ آنے والے نئے موقع کو پہچانے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال کرے- تجربہ بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی میں دوسرا موقع (second chance) تو ضرور آتاہے، لیکن اکثر حالات میں دوسرا موقع اس کے لیے آخری موقع بن جاتا ہے- اس کے بعد تیسرااور چوتھا موقع اس کو نہیں ملتا-
اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ دوسرا موقع آدمی کے لیے امکانی طورپر پہلے موقع سے بہتر ہوتاہے- آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ پہلے موقع کی غلطی اور خامی کو دوبارہ نہ دہرائے، وہ دوسرے موقع کو زیادہ بہتر طورپر استعمال کرے- اِسی حقیقت کو ایک فارسی شاعر نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے کہ — آرٹسٹ دوسری بار اپنے آرٹ کو زیادہ بہتر بناتا ہے:
نقاش نقشِ ثانی بہتر کَشد ز اوّل
اِس حقیقت کا تقاضا ہے کہ آدمی اِس معاملے میں بہت زیادہ سنجیدہ ہو، وہ اپنے ہر لمحے کی قدر کرے، کیوں کہ کھویا ہوا لمحہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔