نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ بعض افرادکی حساسیت (sensitivity) بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے- علماء ِنفسیات (psychologists) کے مطابق، یہ ایک پیدائشی صفت ہے جو بعض افراد میں خصوصی طورپر موجود ہوتی ہے- جن افراد کے اندر بڑھی ہوئی حساسیت کی یہ صفت پائی جائے، وہ علم وفکر کی دنیا میں بڑے بڑے کام انجام دیتے ہیں- یہ نفسیات کا ایک مستقل موضوع ہے- اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- اُن میں سے ایک کتاب یہ ہے:
Elaine N. Aron, The Highly Sensitive Person, pp. 251, 1997
کتاب کاخلاصہ یہ ہے کہ — زیادہ حساس لوگ پیدائشی طورپر زیادہ ذہین ہوتے ہیں- ان کے اندر وجدان اور تخییل اور تخلیقیت کی صلاحیت زیادہ پائی جاتی ہے- زیادہ حساس انسان کے اندر یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ایک بات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ اخذ کرسکے:
They are gifted with great intelligence, intuition, imagination and creativity. A highly sensitive person can grasp a point with greater intensity.
وہ چیز جس کو دین میں تقوی کہاجاتا ہے، اُس کی اصل حقیقت بھی یہی ہے- تقوی کا مادّہ ’و ق ی‘ ہے- عربی میں کہاجاتا ہے: فرس واقٍ (بچ بچ کر چلنے والا گھوڑا)- گھوڑے کی سُم میں اگر کوئی زخم ہوجائے تو وہ بہت زیادہ بچ بچ کر چلتا ہے- ایسے حساس گھوڑے کو فرس واقٍ کہاجاتا ہے- یہی متقی انسان کا معاملہ ہے- متقی انسان وہ ہے جو خدائی معاملات میں بہت زیادہ حساس ہوگیا ہو- یہ حساسیت متقی انسان کے اندر وہی اعلی صفتیں پیدا کرتی ہے جن کا اوپر ذکر کیاگیا ہے-
اِسی حساسیت کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو قرآن میں فرقان (8:28) کہاگیاہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا- ایسا آدمی اِس قابل ہوتاہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو فوراً پہچان لے، وہ باطل کو الگ کرکے حق کو دیکھ سکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔