Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2014
Al-Risala March 2014

برتر حساسیت

Urdu · 2 min read

نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ بعض افرادکی حساسیت (sensitivity) بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے- علماء ِنفسیات (psychologists) کے مطابق، یہ ایک پیدائشی صفت ہے جو بعض افراد میں خصوصی طورپر موجود ہوتی ہے- جن افراد کے اندر بڑھی ہوئی حساسیت کی یہ صفت پائی جائے، وہ علم وفکر کی دنیا میں بڑے بڑے کام انجام دیتے ہیں- یہ نفسیات کا ایک مستقل موضوع ہے- اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- اُن میں سے ایک کتاب یہ ہے:

Elaine N. Aron, The Highly Sensitive Person, pp. 251, 1997

کتاب کاخلاصہ یہ ہے کہ — زیادہ حساس لوگ پیدائشی طورپر زیادہ ذہین ہوتے ہیں- ان کے اندر وجدان اور تخییل اور تخلیقیت کی صلاحیت زیادہ پائی جاتی ہے- زیادہ حساس انسان کے اندر یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ایک بات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ اخذ کرسکے:

They are gifted with great intelligence, intuition, imagination and creativity. A highly sensitive person can grasp a point with greater intensity.

وہ چیز جس کو دین میں تقوی کہاجاتا ہے، اُس کی اصل حقیقت بھی یہی ہے- تقوی کا مادّہ ’و ق ی‘ ہے- عربی میں کہاجاتا ہے: فرس واقٍ (بچ بچ کر چلنے والا گھوڑا)- گھوڑے کی سُم میں اگر کوئی زخم ہوجائے تو وہ بہت زیادہ بچ بچ کر چلتا ہے- ایسے حساس گھوڑے کو فرس واقٍ کہاجاتا ہے- یہی متقی انسان کا معاملہ ہے- متقی انسان وہ ہے جو خدائی معاملات میں بہت زیادہ حساس ہوگیا ہو- یہ حساسیت متقی انسان کے اندر وہی اعلی صفتیں پیدا کرتی ہے جن کا اوپر ذکر کیاگیا ہے-

اِسی حساسیت کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو قرآن میں فرقان (8:28) کہاگیاہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا- ایسا آدمی اِس قابل ہوتاہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو فوراً پہچان لے، وہ باطل کو الگ کرکے حق کو دیکھ سکے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content