ہمارے دعوتی مشن کے ایک ساتھی اپنے گھر سے نکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔ اس بیگ میں اسلامی لٹریچر تھا جس کو وہ لوگوں تک پہنچانا چاہتے تھے۔ راستے میں ایک مقام پر ایک فوجی افسر نے اُن کو روکا۔ اس نے پوچھا کہ اس بیگ میں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کتابیں ہیں۔ فوجی افسر نے بیگ کھول کر اس کو چیک کیا- ہمارے ساتھی نے اس میں سے دو کتابیں مذکورہ فوجی افسر کو دیں— ریلٹی آف لائف(The Reality of Life) اور ’’ستیہ کی کھوج‘‘۔ ہمارے ساتھی نے فوجی افسر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ انسان کی باڈی کوقتل (kill) کرتے ہیں، ہم انسان کے اندر چھپی ہوئی بری سوچ(evil thought) کو قتل کرتے ہیں۔ فوجی افسر نے بڑے دھیان سے ہمارے ساتھی کی باتیں سنیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے یہ کہہ کر ہمارے ساتھی کو رخصت کیا— مجھے آپ کے اوپر فخر ہے:
I am proud of you!
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کوئی دشمن دشمن نہیں۔ ہر وہ انسان جس کو آپ بظاہر اپنا دشمن سمجھ لیـتے ہیں، اس کے اندر آپ کا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہوتاہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ظاہری دشمن کو نظر انداز کرکے اُس کے اندر چھپے ہوئے داخلی دوست کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر دشمن آپ کا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کی کوشش کیجئے اورپھر آپ کے لیے دشمن اور دوست کا فرق مٹ جائے گا۔ ہر انسان آپ کا دوست انسان بن جائے گا۔ فطرت کا یہی راز ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میںاِس طرح بیان کیا گیاہے: ’’اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت دار۔ اور یہ بات صرف اُسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ اور یہ بات صرف اُسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے‘‘۔( 34-41:36)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔