← Al-Risala March 2014Al-Risala March 2014
سوال وجواب
Urdu · 8 min read
دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں- براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں:
1- ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی- انھوں نے الرسالہ مشن کا اعتراف کیا اور یہ بتایا کہ الرسالہ مشن کا مثبت کنٹری بیوشن (positive contribution)کیا ہے- ان کے نزدیک، الرسالہ مشن کے اِس کنٹری بیوشن کے تین پہلو ہیں:
Ÿ تصوف کے مقابلے میں، تزکیہ وتعلق باللہ کا صحیح تصور پیش کرنا-
Ÿ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation)کی غلطی کی نشان دہی کرنا اور اس کے مقابلے میں اسلام کی دعوتی تعبیر پیش کرنا-
Ÿ مسلمانوں کو درپیش مسائل کے اعتبار سے، اُن کو تعمیری رہنمائی دینا-
2- دسمبر 2013 کی 27 تاریخ کو دہلی میں دو اعلی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی- گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن کے تحت جو ٹیم بنی ہے، اُس کے افراد اپنے اندر بلا شبہہ مثبت سوچ رکھتے ہیں- ٹیم کے یہ ممبران بے لوث انداز میں ہر جگہ الرسالہ کے لٹریچر کی اشاعت کررہے ہیں- تاہم ٹیم کے یہ افراد عام طورپر مشن کے لیے مخلص ایکٹوسٹ (sincere activists) یا مخلص ورکر (sincere workers) کی حیثیت رکھتے ہیں- صدر اسلامی مرکز کو چاہیے کہ وہ اپنے مشن کے تحت کچھ ایسے افراد بھی تیار کریں جو قرآن وسنت اور اسلامی مصادر وماخذکا گہرا علم رکھتے ہوں، تاکہ وہ الرسالہ کی علمی روایت کو آگے بڑھا سکیں- (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی)
1- الرسالہ مشن کا کنٹری بیوشن بتانے کے لیے یہ تینوں باتیں بلا شبہہ درست ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ مشن کا جو اصل کنٹری بیوشن ہے، اس کے اعتبار سے، یہ تینوں چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں- الرسالہ مشن کا اصل کنٹری بیوشن ہے— نئے دور میں اسلام کی از سرِ نو دریافت
(re-discovery of Islam in a changing world)- اِس دریافت کے دو خاص پہلو ہیں- ایک یہ ہے کہ دورِ جدید (modern age) دورِ تعقل (age of reason) تھا- نئے حالات کے اعتبار سے، اسلام بظاہر لوگوں کو دورِ جدید میں بے جوڑ (misfit) دکھائی دیتا تھا- الرسالہ مشن نے کامیابی کے ساتھ یہ کیا اسلام کو جدید ذہن (modern mind)کے لیے عقلی طورپر قابلِ فہم (rationally understandable) بنایا- اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ الرسالہ مشن نے دلائل کے ذریعے بتایا کہ دورِ جدید میں مسلمانوں کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے-
الرسالہ مشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، احیاءِ اسلام (revival of Islam) کا مشن ہے- احیاءِ اسلام ایک معروف اصطلاح ہے، لیکن لوگ اِس اصطلاح کے صرف روایتی مفہوم کو جانتے تھے- الرسالہ مشن نے اِس اصطلاح کو اس کے نیے مفہوم کے ساتھ زندہ کیا- اِس اعتبار سے، الرسالہ مشن ایک تخلیقی مشن (creative mission) ہے- وہ اجتہادی فکر پر مبنی ہے، نہ کہ تقلیدی فکر پر-
2- یہ بات درست نہیں- الرسالہ مشن میں جو لوگ شامل ہیں، وہ ورکر یا ایکٹوسٹ نہیں ہیں، بلکہ وہ سب کے سب تعلیم یافتہ لوگ ہیں ، الرسالہ مشن تعلیم یافتہ لوگوں کا مشن ہے- اِس مشن میں جو لوگ شریک ہیں، وہ لٹریچر پڑھ کر اور شعوری فیصلے کے تحت اس میں شریک ہوئے ہیں- زیادہ صحیح الفاظ میں، یہ ٹیم تعلیم یافتہ لوگوں کی ٹیم ہے-
جہاں تک مذکورہ قسم کے اکیڈمیشین (academician) کا تعلق ہے، تو اکیڈمیشین لوگ کبھی کسی مشن سے نہیں جڑتے- اِس کا سبب اکیڈمک کلچر اور مشن کلچر کا فرق ہے- وہ فرق یہ ہے کہ طبیعی سائنس (physical science) کے معاملے میں ہمیشہ ایک واحد رائے پر پہنچنا ممکن ہوتا ہے، لیکن سماجی علوم یا انسانی علوم (humanities) میں ایسا نہیں ہوتا کہ صرف ایک رائے کا انتخاب ممکن ہو- چوں کہ سماجی علوم یا انسانی علوم میں ہمیشہ استنباط (inference)کا امکان ہوتا ہے، اِس لیے رائیں مختلف ہوجاتی ہیں- ایسی حالت میں انسانی علوم کے معاملے میں کسی ایک رائے پر اصرار کرنے کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ آدمی تعصب کا شکار ہوگیا ہے- اِسی تعصب کے الزام سے بچنے کے
لیے اکیڈمیشین یہ کرتے ہیں کہ وہ کبھی قطعیت کی زبان استعمال نہیں کرتے- وہ اپنے بیان میں ہمیشہ اِس طرح کے الفاظ شامل کرتے ہیں:
Perhaps, Probably, It appears, My be I am wrong, etc.
اپنی اِسی خاص نفسیات کی بنا پر کوئی اکیڈمیشین کبھی کسی مشن کا حصہ نہیں بنتا- مشن کلچر صرف وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو اپنے ترقی یافتہ شعور کی بنا پر کسی ایک نظریے کو بطور صداقت اختیار کرسکیں- اکیڈمیشین کا ذہن ایک ایسا ذہن ہوتا ہے جو صاحبِ مشن کے ذہن سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے- اِسی اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اکیڈمیشین کسی مشن کا ساتھ نہیں دیتا-
اکیڈمک کلچر کے مزاج کے مطابق، اکیڈمیشین کا جو اصول ہے، اس کو ویلونیوٹریلٹی (value neutrality) کہا جاتا ہے- معیاری اکیڈمیشین وہ ہے جو ویلو ججمنٹ (value judgement) نہ دے، بلکہ وہ ہمیشہ ویلو نیو ٹرل (value neutral) بنا رہے، وہ کسی ایک رائے کو درست نہ سمجھے، بلکہ وہ رایوں کے بارے میں غیر جانب دار (impartial) بنا رہے-
کسی مشن کی کارکردگی کو جج کرنے کے لیے یہ کوئی صحیح معیار نہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ اکیڈمیشین اس میں تیار ہورہے ہیں یا نہیں- جب تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی کسی اکیڈمیشین نے کسی مشن کا ساتھ نہیں دیا تو کسی مشن پر تبصرہ کرنے کے لیے اِس معیار کو استعمال کرنا اپنے آپ میں درست نہیں- اِس قسم کی روش صاحبِ تبصرہ کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہے، نہ کہ اس کی انصاف پسندی کا ثبوت-
اِس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو کارل مارکس کی زندگی میں ملتی ہے- کارل مارکس ایک سوشلسٹ مفکر تھا- وہ سوسائٹی میں ایک تبدیلی لانا چاہتا تھا- اِس مقصد کے لیے اُس نے 1867 میں ایک کتاب جرمن زبان میں لکھی جس کا نام داس کیپٹال (Das Kapital)تھا- یہ کتاب بظاہر اکیڈمک انداز میں لکھی گئی تھی، مگر کارل مارکس کو اِس کتاب کی بنیاد پر کوئی ساتھ دینے والا نہیں ملا- اس کی دوسری کتاب وہ تھی جو کمیونسٹ مینی فیسٹو (Communist Manifesto) کے نام سے مشہور ہے- کارل مارکس کو اپنے مشن کے لیے جو ساتھی ملے، وہ زیادہ تر
کمیونسٹ مینی فیسٹو کے ذریعے ملے-
یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے- قرآن معروف انداز کے مطابق، اکیڈمک اسلوب پر نہیں ہے، اس کا اسلوب داعیانہ اسلوب ہے- جیساکہ معلوم ہے، قرآن نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا- اِس کے مقابلے میں کئی لوگوں نے اسلام کے موضوع پر ایسی کتابیں لکھی ہیں جو خالص اکیڈمک اسلوب کے مطابق تیار کی گئی ہیں، لیکن اِن کتابوں کی بنیاد پر کبھی کوئی اسلامی مشن کھڑا نہ ہو سکا- اِس قسم کی کتابیں صرف لائبریری کی الماریوں میں پائی جاتی ہیں- انسانوں کی زندگی کو بدلنے میں اُن کا کوئی رول نہیں- انسان کی نسبت سے صرف داعیانہ اسلوب موثر ہے، نہ کہ اکیڈمک اسلوب-
میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہوں اور اُس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں- اِس موضوع پر اکثر لوگوں سے بحث ہوتی رہتی ہے- میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اِس قسم کا بیان درست ہے کہ — الرسالہ مشن کے لوگ حق پر ہیں اور مثلاً جماعت اسلامی کے لوگ باطل پر- براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں- (عبد اللطیف، پاکستان)
یہ کہنا کہ فلاں شخص یا گروہ حق پر ہے اور فلاں باطل پر، یہ ہمارے مشن کی زبان نہیں- یہ ویلو ججمنٹ (value judgement)کا طریقہ ہے، یعنی لوگوں پر شرعی حکم لگانا- کسی پر شرعی حکم لگانا ہمارا طریقہ نہیں- ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو قرآن وحدیث کے حوالوں سے پیش کرتے ہیں- اگر کسی کو ہمارے نقطۂ نظر سے اختلاف ہے تو وہ قرآن وحدیث کے دلائل سے اس کو رد کرسکتا ہے- لوگوں کے اوپر شرعی حکم لگانے کا حکم نہ ہم کو ہے اور نہ دوسروں کو- بدقسمتی سے امت کے درمیان ویلو ججمنٹ کا طریقہ بہت عام ہے- اختلاف کے بعد فوراً ہی لوگ کافر، منافق، بدنیت جیسے الفاظ بولنے لگتے ہیں- اِس اسلوب کا نقصان تو یقینی ہے ، لیکن اس کا فائدہ کچھ بھی نہیں- اِس سے لوگوں کے اندر منفی ذہن پیدا ہوتا ہے- امت میں اختلاف اور انتشار کا ماحول بنتا ہے- لوگوں کو چاہیے کہ
ویلو ججمنٹ کا طریقہ وہ مکمل طورپر ترک کردیں-
انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلی صفت وہ ہے جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality) کہاجاتا ہے- ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے- انسان کی اِسی تخلیقی صفت سے اختلافِ رائے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے-انسانوں کے اندر اختلافِ رائے ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا، وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا- ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے سامنے گرفت سے بچ جائے- میرے مطالعے کے مطابق، اِس معاملے میں محفوظ موقف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی فہم کی نسبت سے آزاد ہو، لیکن حکم لگانے کا حق کسی کو حاصل نہ ہو- اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو یہ آزادی ہو کہ وہ دیانت داری (honesty) کے ساتھ جس چیز کو حق سمجھے، اُس پر قائم رہے- دوسرے شخص کے بارے میں اگر وہ محسوس کرے کہ اس کی رائے غلط ہے تو اِس اختلاف کی بنا پر وہ دوسرے شخص کے بارے میں حکم نہ لگائے- وہ اختلاف کو صرف ذہنی اختلاف کے درجے میں رکھے، وہ اس کو فیصلہ (judgement) کے درجے تک نہ لے جائے- یہ وہی بات ہے جس کو سیکولر علما اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Everyone has the right to dissent, but no one has the right to pass value judgement.