ایک صاحب سے ملاقات ہوئی-انھوں نے بتایا کہ وہ ایک مشہور درگاہ میں گئے- وہاں وہ قبر کے پاس آنکھ بند کرکے بیٹھے اور ایک گھنٹے تک مراقبہ (meditation) کرتے رہے- اُن کے بیان کے مطابق، وہاں اُن کو سکون حاصل ہوا- یہ کوئی ایک مثال نہیں، ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں اور ان کے بیان کے مطابق، وہاں ان کو سکون حاصل ہوتا ہے-
اِس’’ سکون‘‘ کا سرچشمہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے- یہ سکون کوئی حقیقی سکون نہیں ہوتا، وہ ایک فرضی سکون (false peace) ہوتا ہے جو خود اپنی نفسیات کی بنا پر ان کو حاصل ہوتا ہے- اگر اُن سے مزید سوال کیا جائے تو وہ یقینی طورپر اِس کی کوئی عقلی توجیہ پیش نہیں کرسکیں گے- ایسے لوگ ہمیشہ ایک موہوم عقیدے میں جیتے ہیں، نہ کہ عقلی طورپر دریافت کردہ حقیقت میں-
اِس قسم کا واقعہ عام طور پر ہندستان جیسے ملک کا ایک ظاہرہ ہے- جو آدمی یہاں کے ماحول میں پیدا ہوتا ہے، وہ بچپن سے ماضی کے بزرگوں کی کہانیاں سنتا ہے جو زیادہ تر فرضی اور افسانوی ہوتی ہیں- آدمی جب بڑا ہوتا ہے تو یہ کہانیاں اس کے لاشعور کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں- عقلی تجزیہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ اُن کہانیوں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے- ایسے آدمی کو جب زندگی کے عملی تجربات ہوتے ہیں تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ جزئی یا کلی طورپر ذہنی سکون (peace of mind) سے محروم ہوگیا- اُس وقت اس کو تلاش ہوتی ہے کہ کوئی چیز ہو جو اس کو ذہنی سکون دے سکے-
اِس نفسیاتی حالت میں اُس کو ماضی کے اُس بزرگ کی یاد آتی ہے جن کی مفروضہ تصویر کی بنا پر وہ سمجھتا رہا ہے کہ وہ عام انسانوں کے مقابلے میں ایک برتر انسان تھے- اِسی نفسیاتی حالت کے ساتھ وہ کسی بزرگ کی درگاہ میں جاتا ہے اور وہاں کے ایک گوشے میں آنکھ بند کرکے بیٹھتا ہے- اُس وقت، اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر، اس کو بظاہر ایک قسم کا سکون محسوس ہوتا ہے، مگر اِس قسم کا سکون ہمیشہ وقتی ہوتا ہے- مستقل سکون وہ ہے جو شعوری عمل کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہو، نہ کہ محض موہوم عقیدے کی بنا پر-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.