ڈاکٹر محمد نسیم صدیقی (نئی دہلی) سی پی ایس ٹیم کے ایک سینئر ممبر تھے- اُن کو دعوتی کام سے بہت دلچسپی تھی- 4 دسمبر 2013 کو 80 سال کی عمر میں اُن کا انتقال ہوگیا- انتقال سے پہلے جب کہ وہ بیماری کی حالت میں تھے، تو اکثر وہ کہتے تھے کہ — اللہ نے مجھے صحت دی تو میں اپنی بقیہ زندگی قرآن کو پھیلانے میں لگاؤں گا- انھوں نے قرآن کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کا ایک نقشہ بھی تیار کرلیا تھا-
ڈاکٹر محمد نسیم صدیقی کی اِس نیت کا اُن کے اہلِ خاندان پر بہت اثر ہوا- انھوں نے طے کیا کہ وہ ڈاکٹر صدیقی کی اِس آخری خواہش کو بطور مشن اختیار کریںگے- عام رواج کے مطابق، انھوں نے یہ نہیں کیا کہ مرحوم کے انتقال کے بعد اپنے یہاں ’’قرآن خوانی‘‘ کا اہتمام کریں- اِس کے بجائے انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ قرآن کے تراجم (Translations of the Quran) کو عالمی سطح پر پھیلائیں گے، یعنی قرآن خوانی کے بجائے قرآن ڈسٹری بیوشن-
مسلمانوں میں عام رواج ہے کہ جب فیملی کے کسی ممبر کا انتقال ہوتا ہے تو وہ ایصالِ ثواب کے نام سے قرآن خوانی کا اہتمام کرتے ہیں- یہ بلاشبہ ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی اصل قرآن اور سنت میں موجود نہیں- اِس کے بجائے لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اِس مقصد سے، قرآن خوانی کے بجائے قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام کریں- قرآن ڈسٹری بیوشن یا قرآن کے تراجم کی عمومی اشاعت ایک ایسا کام ہے جو دونوں کے لیے باعثِ رحمت ہے، وفات یافتہ شخص کے لیے بھی اور خاندان کے افراد کے لیے بھی- اِس عمل میں دونوں کے لیے یکساں درجے کا اجر ہے- ضرورت ہے کہ ہر مسلم خاندان اِس طریقے پر عمل کرے- موجودہ زمانے میں قرآن کے ترجمے ہر زبان میں موجود ہیں- اپنے حالات کے لحاظ سے ہر خاندان کسی ترجمے کا انتخاب کرسکتا ہے- قرآن ڈسٹری بیوشن کا فائدہ صرف ’’ایصالِ ثواب‘‘ کے لیے نہیں ہے، بلکہ دوسرے بہت سے فائدے بھی اُس سے یقینی طورپر حاصل ہوتے ہیں- مثلاً اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا خاتمہ، مذہبی ہم آہنگی، دینی تعلیمات کا فروغ، قرآنی کردار کی تعمیر، وغیرہ-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔