پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی اجتماعی معاملات میںکیا تھی۔ اس کے بارے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے: ماخُیِّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین، إلا اختار أیسرھما (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6318) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو طریقوں میں سے ایک طریقے کا انتخاب کرنا ہوتا توآپ ہمیشہ آسان طریقے کا انتخاب کرتے:
Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier course, rather than the harder one.
’’آسان طریقہ‘‘ کیا ہے، آسان طریقہ دراصل پُرامن طریقہ (peaceful method) کا دوسرا نام ہے۔ زندگی میں اکثر پُرامن طریقِ کار اور متشددانہ طریقِ کار (violent method)کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ متشددانہ طریقِ کار کے مقابلے میں پرامن طریقِ کار ہمیشہ آسان ہوتاہے۔ متشددانہ طریقِ کار میں ہمیشہ کسی سے ٹکراؤ کرنا پڑتاہے، جب کہ پرامن طریقِ کار میں کسی سے ٹکراؤ کی ضرورت نہیں۔
موجودہ دنیا آزادی اور مسابقت (competition)کے اصول پر قائم ہے۔ اِس دنیا میں ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ ایسے اسباب پیش آتے ہیں جو دو گروہوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا کردیں۔ ایسے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنا، غیر پیغمبرانہ طریقہ ہے، اور ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر اپنے عمل کی پرامن منصوبہ بندی کرنا، پیغمبر کا طریقہ۔
خدا نے پیغمبر کے طریقے میں کامیابی رکھی ہے اور غیر پیغمبرانہ طریقے میں ناکامی۔ ایسی حالت میں، جو لوگ پیغمبر کے طریقے کو نظر انداز کریں اور وہ غیرپیغمبرانہ طریقے پر اپنی تحریک چلائیں، وہ اپنے لیے بیک وقت دو خطرے مول لے رہے ہیں— ایک یہ کہ اللہ کے نزدیک اُن کا ایمان بالرسول مشتبہ ہوجائے، اور دوسرے یہ کہ خدا کی اِس دنیا میں ان کی تحریک کبھی کامیابی کی منزل تک نہ پہنچے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔